امریکی سیاست میں تاریخ رقم ہوگئی، مسلمان ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید نے ریاست مشی گن سے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کی نشست جیت لی۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر بن گئے ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران مذہبی شناخت اور نام کی بنیاد پر تنقید کا سامنا کرنے والے عبدل السید نے کامیابی کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ یہ صرف ان کی نہیں بلکہ پورے امریکا کی جیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی مذہبی شناخت اور نام کو سیاسی مہم کے دوران نشانہ بنایا گیا، تاہم ان کے بقول ان کی شناخت امریکی عوام کو درپیش معاشی مشکلات کی وجہ نہیں ہے۔
اپنے خطاب میں عبدل السید نے کہا کہ جب مخالفین کو جب اپنی ناکامی نظر آئی تو انہوں نے ان کے خلاف انتہائی نفرت انگیز مہم شروع کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالفین ان کے نام اور مذہب کو نشانہ بنا رہے تھے، لیکن عوام کو مہنگا پیٹرول، اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتیں اور طبی سہولیات تک رسائی میں مشکلات ان کے نام یا مذہب کی وجہ سے درپیش نہیں ہیں۔
عبدل السید کون ہیں؟
41 سالہ عبدل السید مصری تارکین وطن کے گھرانے میں پیدا ہوئے اور ان کی پرورش امریکی ریاست مشی گن میں ہوئی۔ ان کا پورا نام عبدالرحمن محمد السید ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف مشی گن سے بائیولوجی اور پولیٹیکل سائنس میں تعلیم حاصل کی، بعد ازاں طب کی تعلیم حاصل کی اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے صحتِ عامہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ انہیں تعلیم کے دوران رہوڈز اسکالرشپ بھی ملی۔ انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے میڈیکل کی ڈگری بھی حاصل کی۔
عبدل السید نے عملی زندگی کا آغاز صحتِ عامہ کے شعبے سے کیا اور ڈیٹرائٹ کے محکمہ صحت کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں وہ وین کاؤنٹی کے محکمہ صحت کے سربراہ بھی رہے۔ 2018 میں انہوں نے مشی گن کے گورنر کا انتخاب لڑا، تاہم ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری مرحلے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس بار انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کے بعد سینیٹ کا انتخاب لڑا۔
انتخابی مہم میں عبدل السید نے صحت کی سہولیات تک عام شہریوں کی رسائی، مہنگائی میں کمی اور عام لوگوں کے معاشی مسائل کو اپنی ترجیحات قرار دیا۔ انہوں نے امریکا کی خارجہ پالیسی اور اسرائیل کے لیے امریکی حمایت پر بھی تنقید کی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عبدل السید کے ریپبلکن حریف مائیک راجرز نے انتخابی مہم کے دوران ان پر اسلامی انتہا پسندی سے ہمدردی کے الزامات عائد کیے، جن کی عبدل السید نے تردید کی۔ ان کے حامیوں نے ان الزامات کو اسلام مخالف مہم قرار دیا۔
’ٹرمپ اب مجھے سینیٹر بُلا سکتے ہیں‘
عبدل السید نے جیت کے بعد خطاب میں امریکی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا انہوں نے مشی گن کے عوام اور جمہوریت کو جیت دلوائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو لوگوں کی نظر میں بدترین کردیا تھا مگر ہم امریکی عوام کا مستقبل مزید روشن چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات کے باوجود جہدوجہد جاری رکھی، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ ہارچکے ہیں، انتخابی مہم میں میرے نام اور مذہبی وابستگی کو نشانہ بنایا گیا لیکن ڈونلڈٹرمپ اب مجھے سینیٹر بُلا سکتے ہیں۔ عبدل السید نے اپنی کامیابی عوام کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ہم اصلاحات اور عوام کے مفاد کے لیے کام کریں گے۔
عبدل السید نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران بعض لوگوں نے ان سے پوچھا کہ وہ مخالفین کو نسل پرست یا نفرت انگیز کیوں نہیں کہتے اور ان کے الزامات کا بھرپور جواب کیوں نہیں دیتے۔ ان کے مطابق انہوں نے ذاتی مفاد کے لیے انتخاب نہیں لڑا، کیونکہ ان کے خیال میں حملے صرف ان کی ذات پر نہیں بلکہ ان لوگوں اور امریکی معاشرے کے بنیادی تصور پر بھی کیے جا رہے تھے جنہیں مختلف شکل و صورت، مذہب یا خاندانی پس منظر کی وجہ سے الگ سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مخالفین ایسا امریکا چاہتے ہیں جہاں مختلف مذہب، شکل و صورت یا دنیا کے کسی دوسرے خطے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے جگہ نہ ہو۔ تاہم ان کے بقول امریکا سب کے لیے ہے اور ہر شہری کو اس ملک میں برابر کا حق حاصل ہے۔
عبدالسید نے کہا کہ امریکا اتنا وسیع ہے کہ اس میں مختلف شناخت رکھنے والے تمام افراد کے لیے جگہ موجود ہے اور یہ ملک بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ مشی گن کی سینیٹ نشست کے لیے عبدل السید کا مقابلہ ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز سے تھا۔ یہ نشست ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز کی ریٹائرمنٹ کے باعث خالی ہوئی تھی۔ انتخابی مہم کے دوران عبدل السید کو ان کے نام اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر تنقید اور الزامات کا سامنا رہا۔
THE PUBLIC POST