‘غنڈے پھر سے حملہ آور ہیں’، پنجاب حکومت کیلانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی پر کڑی تنقید

سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے تناظر میں پارٹی کے ماضی کے پرتشدد واقعات کی ویڈیوز جاری کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی “ایک دفعہ پھر ریاست پہ حملہ آور ہونے کے کیے” آ رہی ہے۔

ایکس پر کی گئی پوسٹ میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ مسلسل اپنے عہدے اور دفتر کی ’بے توقیری اور تضحیک‘ کروا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ سہیل آفریدی دیگر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف متوقع لانگ مارچ کی قیادت کر رہے ہیں جس کے بارے میں وفاقی حکومتی نمائندوں اور پاکستان مسلم (ن) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاج ملتوی کر دیا جائے گا۔ مارچ میں شامل مظاہرین پر پر تشدد ہونے کے الزامات لگا کر انہیں روکنے کے لیے متعدد سخت اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی رہنماؤں نے عمران خان کی رہائی سمیت دیگر مطالبات کی منظوری تک احتجاج ملتوی نہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ بارے مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ 2014 میں ڈی چوک پر قبریں کھودنے، پاکستان ٹیلی وژن اور ریڈیو پاکستان پر حملہ کرنے والے عناصر ایک بار پھر ریاست پہ ’حملہ آور‘ ہو رہے ہیں۔

انہوں نے پی ٹی آئی کے کارکنوں پر پولیس اہلکاروں کو زخمی کرنے، ایمبولینسز جلانے، پولیس پر پٹرول بم پھینکنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی عائد کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مار دو، جلا دو، آگ لگا دو‘ کا نعرہ لگانے والے عناصر ایک مرتبہ پھر ریاست کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہیں۔

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ دنیا کے کسی مہذب ملک میں کسی گروہ کو جتھے کی صورت میں ریاست پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

انہوں نے پی ٹی آئی کو ’فارن فنڈڈ فتنہ‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ سیاسی جماعت نہیں بلکہ بیرونی فنڈنگ کے تحت پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کرنے والوں کی سہولت کار ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ سیاسی جماعت کا لبادہ اوڑھ کر پی ٹی آئی نے ’ہمیشہ ریاست کے خلاف دہشت گردی‘ کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو 2014 کے دھرنے یا 9 مئی جیسے واقعات کو دوبارہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔

مریم اورنگزیب نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ کیا احتجاج اس لیے کیا جا رہا ہے کہ ملک کیوں ڈیفالٹ سے بچ گیا اور پاکستان کی سفارتی ساکھ کیوں بحال ہوئی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ احتجاج کی تیاری کرنے والے عناصر ایک مرتبہ پھر پولیس اور رینجرز اہلکاروں پر حملوں، ایمبولینسز جلانے اور عوام کے کاروبار، روزگار، نوجوانوں کی تعلیم اور مزدوروں کے روزگار کو متاثر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

دوسری جانب پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی کے احتجاجی پروگرام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی توجہ دہشت گردی پر نہیں۔”آفریدی صاحب صوبے کا چپہ چپہ گھوم رہے ہیں، کارکردگی صفر ہے۔”

انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہ کیا پی ٹی آئی کی تیاری پرامن احتجاج کے لیے ہے، الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ ’انتشار کی سیاست‘ کی ہے۔۔۔۔اور ریاست ’شرپسندوں’ سے اچھی طرح نمٹنا جانتی ہے۔”

Check Also

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 5اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ، ذرائع

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے لانگ مارچ 5 اکتوبر تک مؤخر کرنے کا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *