لاڈلوں کیلئے ایک اور خیبر پختونخوا کیلئےدوسری پالیسی نہیں چل سکتی، سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ صوبے کے عوام کے خون اور قربانیوں کی کسی کو فکر نہیں، لاڈلوں کے لیے ایک پالیسی اور خیبر پختونخوا کے لیے دوسری پالیسی نہیں چل سکتی۔

یاد رہے اب سے کچھ دیر قبل وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

وزیر اعلیٰ نے امن و امان سے متعلق اجلاس کی صدارت کی، اس حوالے سے صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے ٹوئٹ کرکے تفصیلات سے آگاہ کیا۔

شفیع جان نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج نے امن کے قیام کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، خیبر پختونخوا کے 80 ہزار سے زائد افراد نے پاکستان کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔

دو دہائیوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن رجیم چینج آپریشن کے بعد دوبارہ بدامنی کی نذر کر دیا گیا، دہشتگردوں کے پہاڑوں پر جانے سے لے کر ان کی دوبارہ آباد کاری تک ہم نے ریاست اور وفاق کو مسلسل خبردار کیا۔

ہم نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں جلسے، جلوس اور مظاہرے کرکے بدامنی کی واپسی کے خلاف آواز اٹھائی، ہماری بار بار کی تنبیہات کو وفاقی وزراء نے پروپیگنڈا اور جھوٹ قرار دیا۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ ہم نے بار بار کہا کہ ریاست کی موجودہ پالیسی غلط ہے اور اس سے دوبارہ پختونوں کا خون بہے گا، خیبر پختونخوا کے عوام کو ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے تجربات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، آج خیبر پختونخوا میں فوجی جوان، پولیس اہلکار، بچے، خواتین، بزرگ اور عام شہری دہشتگردی کا نشانہ بن کر شہید ہو رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے عوام کے خون اور قربانیوں کی کسی کو فکر نہیں، وفاقی وزراء خیبر پختونخوا کے عوام کو دہشتگرد اور جنگلی کہتے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی، لاڈلوں کے لیے ایک پالیسی اور خیبر پختونخوا کے لیے دوسری پالیسی نہیں چل سکتی۔

پنجاب کی وزیراعلیٰ کا یہ بیان کہ بھارت سے خطرہ نہیں بلکہ باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے انتہائی قابل تشویش ہے،بھارت کے حوالے سے ریاستی بیانیے کی نفی کرنے والوں سے بھی سوال ہونا چاہیے، خیبر پختونخوا کو دوبارہ دہشتگردی کی آگ میں جھونکنے کی پالیسی ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن کے لیے اپنے ترقیاتی بجٹ میں 35 ارب روپے کٹوتی کرکے پولیس کو دیے، مالی سال 2026 میں پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے وسائل فراہم کیے، پولیس کے بجٹ میں 103 فیصد اضافہ کیا ہے، پولیس کی نفری اور استعداد کار کو مضبوط، اسپیشل برانچ کو مستحکم اور پولیس کو جدید اسلحہ و دیگر ضروری آلات فراہم کیے جا رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ صرف پولیس کو وسائل دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، وفاق کو پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی، 15 اکتوبر 2025 سے مسلسل کہہ رہا ہوں کہ 22 سال سے جاری ناکام پالیسی تبدیل کی جائے، خیبر پختونخوا کے تمام اسٹیک ہولڈرز، حکومت، انتظامیہ اور پولیس کو اعتماد میں لے کر نئی پالیسی بنائی جائے۔

انہوں ںے دعویٰ کیا کہ ہماری تجویز کردہ نئی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں خیبر پختونخوا میں امن لا سکتے ہیں، مگر کوئی سننے کو تیار نہیں، کچھ لوگ عقل کل بنے ہوئے ہیں اور خیبر پختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز کی بات سننے کو تیار نہیں۔

ملک کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں، کیا ہمارے لوگوں کا خون اتنا سستا ہے کہ اسے سیاست کی بھینٹ چڑھایا جائے، خیبر پختونخوا کے عوام کی مرضی اور عوامی مینڈیٹ کے برعکس کوئی اقدام قابل قبول نہیں۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجھے اپنے نظریے سے ہٹا دے، گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔

وفاق اپنی پالیسی تبدیل کرے اور پالیسی شفٹ لائیں، اپنے فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کو مزید خون خرابے سے بچائیں، پالیسی میں تبدیلی خیبر پختونخوا کے ساتھ پورے پاکستان کے مفاد میں ہے۔

Check Also

غیر ملکی لڑکی سے اجتماعی زیادتی کیس میں اہم پیشرفت

لاہور: ڈیفنس سی میں غیر ملکی لڑکی سے اجتماعی زیادتی کے معاملے میں اہم پیشرفت …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *