ٹیکس ادا کرنے کے باوجود ڈاکٹروں کو مشکلات، پی ایم اے کا سخت احتجاج کا اعلان

کراچی میں ڈاکٹروں پر ٹیکس کے معاملے پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دو روزہ احتجاج کی کال دے دی ہے۔ پی ایم اے کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہے ہیں، اس کے باوجود انہیں مبینہ طور پر ہراساں اور بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹرز نے واضح کردیا کہ وہ اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے کراچی میں پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈاکٹر برادری کو درپیش مسائل، ٹیکس کے معاملے اور ایف بی آر کی کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

پی ایم اے کے رہنما غفور شورو نے کہا کہ کراچی میں کافی عرصے سے ڈاکٹروں کو بلیک میل کیا جا رہا ہے اور ان سے مبینہ طور پر جبری ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز ٹیکس فائلر ہیں اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

غفور شورو کے مطابق ڈاکٹر نثار چوہدری سے ملاقات بھی کی گئی تھی، جس میں چار ماہ کا وقت دیا گیا، تاہم مسائل حل نہ ہونے پر پاکستان کی مختلف ایکشن کمیٹیوں نے دو روزہ احتجاج کی کال دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی ایم اے رہنماؤں نے کہا کہ ڈاکٹرز کا بنیادی مقصد انسانیت کی خدمت ہے، کاروبار کرنا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر برادری کی شناخت کو مجروح کیا جا رہا ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس میں سینیٹ سے منظور ہونے والے ایک بل پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا اور مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس کے ذریعے ڈاکٹروں کے حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ نوجوان خدمتِ خلق کے جذبے سے ڈاکٹر بنتے ہیں، اس لیے طبی شعبے سے وابستہ افراد کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہیں کیا جانا چاہیے جو انہیں اپنے پیشے سے بددل کردے۔

دوسری جانب ڈاکٹر فرحان عیسیٰ نے کہا کہ ڈاکٹرز اور نرسز ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جو پاکستان کے طبی نظام کے لیے تشویش ناک صورتِ حال ہے۔

انہوں نے پولیو کے خلاف عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف بیماریوں کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں، جبکہ دوسری طرف ڈاکٹروں کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر فرحان عیسیٰ نے طبی اداروں کے ڈیجیٹل ڈیٹا کے تحفظ پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پرانا ڈیٹا لیک ہوجائے یا ضائع ہوجائے تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مختلف سافٹ ویئرز کے ساتھ ڈیٹا منسلک رکھنے سے بھی سکیورٹی کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

پریس کانفرنس میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ ایف بی آر کی ٹیمیں پولیس کے ہمراہ چھاپے مار رہی ہیں، جس پر ڈاکٹر برادری نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ڈاکٹروں کے ان تحفظات پر کیا ردعمل دیتے ہیں اور ٹیکس کے معاملے پر پیدا ہونے والی کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔

Check Also

ہمایوں سعید نے حکومت سے اہم مطالبہ کر دیا

پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار اور پروڈیوسر ہمایوں سعید نے حکومت سے مطالبہ کیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *