فالج یا اسٹروک ایک ایسی خطرناک طبی حالت ہے جس میں ہر گزرتا منٹ اہم ہوتا ہے، کیونکہ علاج میں معمولی تاخیر بھی دماغ کو مستقل نقصان پہنچانے یا معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دماغ کے کسی حصے کو خون کی فراہمی منقطع ہو جائے یا دماغ کی کوئی رگ پھٹ جائے۔ بروقت علاج نہ ملنے سے مریض کی جان بھی جا سکتی ہے۔ اس لیے فالج کی علامات پہچاننا اور فوری طبی امداد حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔
ہر سال 29 اکتوبر کو دنیا بھر میں فالج سے آگاہی کا دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد لوگوں کو اس بیماری کی علامات، بچاؤ اور بروقت علاج کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔
فالج کی علامات کیسے پہچانیں؟
فالج کی علامات عموماً اچانک ظاہر ہوتی ہیں۔ مریض کو بولنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے، جسم کے ایک حصے میں کمزوری محسوس ہو سکتی ہے یا چلتے ہوئے توازن برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات لوگ ان علامات کو تھکن یا معمولی کمزوری سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
فالج کی فوری شناخت کے لیے بین الاقوامی سطح پر FAST فارمولا استعمال کیا جاتا ہے،۔ اس فارمولے کے مطابق F سے مراد چہرہ ہے۔ سب سے پہلے متاثرہ شخص کے چہرے کو دیکھیں اور اسے مسکرانے کا کہیں، اگر چہرے کا ایک حصہ لٹک رہا ہو یا غیر متوازن لگے تو یہ ایک بڑی علامت ہے۔
A سے مراد بازو ہیں۔ مریض کو دونوں بازو اوپر اٹھانے کا کہیں، اگر ایک بازو اٹھانے میں مشکل ہو یا بار بار نیچے کی طرف گرنے لگے تو ہوشیار ہو جائیں یہ فالج کی علامت ہو سکتی ہے۔
S سے مرد بولنے کی صلاحیت ہے۔ مریض سے کوئی آسان جملہ دہرانے کو کہیں۔ اگر اس کی آواز لڑکھڑا رہی ہو، الفاظ ادا کرنے میں مشکل ہو یا وہ بات سمجھ نہ پا رہا ہو تو اسے سنجیدگی سے لیں۔
T سے مراد وقت ہے۔ اگر ان میں سے کوئی علامت نظر آئے تو فوراً ایمبولینس بلائیں اور علامات کے خودبخود ختم ہونے کا انتظار بالکل نہ کریں۔
فالج کی دیگر علامات میں جسم کے ایک طرف اچانک سن ہونا یا کمزوری، ایک یا دونوں آنکھوں سے دیکھنے میں دشواری، چلنے میں مشکل، توازن بگڑنا اور اچانک شدید سر درد شامل ہیں۔ اگر یہ علامات چند منٹ بعد ختم بھی ہو جائیں تو بھی فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
ایمبولینس فوراً بلائیں اور علامات شروع ہونے کا وقت یاد رکھیں
فالج کا شبہ ہونے پر مریض کو فوراً طبی امداد فراہم کرنا سب سے اہم قدم ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے انتظار نہ کریں کہ مریض کی حالت بہتر ہوتی ہے یا نہیں۔
یہ بات بھی یاد رکھیں کہ علامات پہلی مرتبہ کب ظاہر ہوئیں۔ اگر صحیح وقت معلوم نہ ہو تو یہ نوٹ کریں کہ مریض کو آخری مرتبہ کب معمول کے مطابق دیکھا گیا تھا۔ یہ معلومات ڈاکٹر کو علاج کا فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
فالج کے بعض علاج وقت کے لحاظ سے بہت اہم ہوتے ہیں۔ مناسب مریضوں کو خون کا لوتھڑا ختم کرنے والی دوا دی جا سکتی ہے یا ایک خاص طبی طریقے کے ذریعے بند خون کی نالی سے لوتھڑا نکالا جا سکتا ہے۔ تاہم، یہ علاج ہر مریض کے لیے موزوں نہیں ہوتے۔ ڈاکٹر دماغ کے معائنے، مریض کی حالت اور علامات شروع ہونے کے وقت کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔
مدد آنے تک مریض کی دیکھ بھال کیسے کریں؟
ایمبولینس آنے تک مریض کے ساتھ رہیں اور اسے پرسکون رکھنے کی کوشش کریں۔ اسے محفوظ جگہ پر بٹھائیں یا لٹا دیں تاکہ گرنے سے چوٹ نہ لگے۔ اسے چلنے پھرنے یا جسمانی مشقت کرنے پر مجبور نہ کریں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ مریض کو کھانے، پینے کی کوئی چیز یا پانی بالکل نہ دیں، کیونکہ اسٹروک کے دوران نگلنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے جس سے خوراک کا سانس کی نالی میں پھنسنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں، بغیر طبی مشورے کے ڈسپرین یا کوئی اور دوا دینے سے مکمل طور پر گریز کریں۔ کیونکہ بعض اقسام کے فالج میں دماغ کے اندر خون بہہ رہا ہوتا ہے اور اسپرین سے خون بہنے کی کیفیت مزید خراب ہو سکتی ہے۔
اسی طرح گھریلو ٹوٹکے آزمانے یا کسی رشتے دار کے پہنچنے کا انتظار کرنے میں وقت ضائع نہ کریں۔
طبی ماہرین کے مطابق مریض کو نجی گاڑی میں لے جانے کے بجائے ایمبولینس کا انتظار کرنا بہتر ہوتا ہے، کیونکہ ایمبولینس کا عملہ راستے میں مریض کی حالت کو سنبھال سکتا ہے اور ہسپتال کو پہلے سے مطلع کر سکتا ہے۔
ہسپتال پہنچنے پر سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی کے ذریعے اسٹروک کی قسم کا تعین کیا جاتا ہے اور وقت کی پابندی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری علاج شروع کیا جاتا ہے۔ دماغی صحت کے اننگامی حالات کو کبھی بھی معمولی تھکن یا عارضی کمزوری سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ بروقت پیش رفت مریض کو دائمی معذوری سے بچا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، خاندان کے افراد، دوستوں اور مریض کی دیکھ بھال کرنے والوں کو فالج کی ابتدائی علامات سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی جا سکے۔
THE PUBLIC POST