اسلام آباد:وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) امیگریشن نے ملک بھر کے بین الاقوامی ایئرپورٹس، سی پورٹس اور ڈرائی پورٹس پر تعینات امیگریشن افسران کے فرائض، اختیارات اور احتساب کا نیا نظام نافذ کردیا ہے۔ *اسٹینڈنگ آرڈر نمبر 07/2026* کے اجرا کے ساتھ امیگریشن افسران کے جاب ڈسکرپشن سے متعلق *2005 کا اسٹینڈنگ آرڈر نمبر 31/2005 منسوخ* کردیا گیا ہے، جبکہ سابقہ ہدایات بھی اس حد تک ختم کردی گئی ہیں جہاں وہ نئے نظام سے متصادم ہوں۔
ایف آئی اے ڈائریکٹر جنرل ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کے دفتر سے جاری نئے اسٹینڈنگ آرڈر کے تحت امیگریشن کا عمل اب محض زبانی کارروائی کے بجائے *رسک بیسڈ بارڈر مینجمنٹ، ڈیجیٹل ریکارڈ، تحریری فیصلوں، افسر کی انفرادی ذمہ داری اور انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (IBMS)* سے منسلک کردیا گیا ہے۔
نئے نظام کے تحت کسی بھی مسافر کو *زبانی طور پر آف لوڈ، داخلے سے انکار یا امیگریشن کلیئرنس سے محروم نہیں کیا جاسکے گا۔* ایسے ہر فیصلے کے لیے IBMS میں مقررہ اندراج اور تحریری فیصلہ لازمی ہوگا۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف کسی رسک انڈیکیٹر کی موجودگی مسافر کو آف لوڈ کرنے یا داخلے سے روکنے کا خودکار جواز نہیں بنے گی، بلکہ مجاز افسر کو تمام ضروری جانچ پڑتال مکمل کرنے کے بعد فیصلہ کرنا ہوگا۔
### *رسک بیسڈ امیگریشن، جعلی دستاویزات کی سخت جانچ*
نئے اسٹینڈنگ آرڈر کے مطابق بین الاقوامی آمد پر مسافروں کی شناخت، پاسپورٹ اور سفری دستاویزات کی معیاد، ہٹ کیسز، ویزا یا داخلے کی اجازت اور جعلی یا غیر قانونی دستاویزات کی نشاندہی بنیادی جانچ کا حصہ ہوگی۔
اسی طرح پاکستان سے بیرون ملک روانگی کے وقت *غیر قانونی ہجرت، انسانی اسمگلنگ، ہٹ کیسز، ویزا کے غلط استعمال، مشکوک سفری پروفائلز اور جعلی دستاویزات* سمیت دیگر خطرے کے عوامل کو مدنظر رکھا جائے گا۔ ان خطرات کی نشاندہی RAU Risk Profiles، Risk Advisories اور دستیاب امیگریشن معلومات کے ذریعے کی جائے گی۔
حکم نامے کے تحت امیگریشن افسران کو پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویزات میں جعلسازی یا ٹیمپرنگ کی علامات تلاش کرنے کی بھی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ان علامات میں تصویر یا صفحات کی تبدیلی، بائنڈنگ یا سلائی میں خرابی، غیر معمولی سوراخ، پرنٹنگ میں تبدیلی اور دوبارہ لیمینیشن شامل ہیں۔ دستاویزات کی جانچ کے لیے UV لائٹ، میگنیفائنگ گلاس، ڈاکومنٹ ریڈرز اور دیگر مجاز آلات استعمال کیے جائیں گے۔
### *امیگریشن افسر تفتیش نہیں کرے گا*
نئے طریقہ کار میں امیگریشن کاؤنٹر آفیسر کو مسافر سے معمول کی اور متعلقہ امیگریشن معلومات حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم واضح کیا گیا ہے کہ کاؤنٹر آفیسر *تفتیش یا تفصیلی پوچھ گچھ نہیں کرے گا۔*
اگر کسی مسافر کی دستاویزات، شناخت، سسٹم الرٹ یا دیگر معلومات میں مزید جانچ کی ضرورت محسوس ہو تو اسے گروپ انچارج یا امیگریشن ایکسپرٹ کے پاس بھیجا جائے گا۔ خصوصی جانچ کی صورت میں IBMS میں ریفرل اور مشاہدات درج کرنا ہوں گے، جبکہ حتمی کلیئرنس بھی نامزد افسر کی جانب سے IBMS نوٹ پیڈ یا ریمارکس میں جانچ کے نتیجے کے اندراج کے بعد ہوگی۔
نئے اسٹینڈنگ آرڈر میں امیگریشن عملے کی فنکشنل ہائیرارکی بھی واضح کردی گئی ہے، جس میں *امیگریشن کاؤنٹر آفیسر، گروپ انچارج/امیگریشن ایکسپرٹ، شفٹ انچارج، ریکارڈ اینڈ رپورٹنگ آفیسر، IBMS اسٹاف، امیگریشن انچارج/سپروائزری آفیسر اور زونل ڈائریکٹر* شامل ہیں۔
حکم نامے کے مطابق تمام لازمی امیگریشن ٹرانزیکشنز اور فیصلوں کا IBMS میں درست، مکمل اور بروقت اندراج لازمی ہوگا، جبکہ قانونی طور پر سفر کرنے والے مسافروں کو مؤثر اور شائستہ انداز میں سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ان کی عزت، نجی معلومات اور رازداری کا خیال رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
*12 صفحات پر مشتمل اسٹینڈنگ آرڈر نمبر 07/2026* کو فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا گیا ہے اور اس کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جائے گا۔ نئے نظام کے نفاذ سے امیگریشن فیصلوں کو افسر کی انفرادی ذمہ داری، قابلِ تصدیق ڈیجیٹل ریکارڈ اور تحریری جواز سے جوڑ دیا گیا ہے، جس سے امیگریشن کارروائی میں شفافیت اور احتساب کا نیا فریم ورک سامنے آیا ہے۔
THE PUBLIC POST