اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں سے متعلق ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ’نازا‘ کی اسرائیل میں شاندار پذیرائی دیکھ کر سیخ پا ہو گئے۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے شناخت خفیہ رکھ کر دستاویزی فلم کے لیے انٹرویو دینے والے اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کے خلاف جامع تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا ہے کہ فلم میں اسرائیلی فوج کے 24 نامعلوم اہلکاروں کے انٹرویوز شامل ہیں، جنہوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظام استعمال کیے گئے۔
اسرائیلی فوجی اہلکاروں کے مطابق مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظاموں کی مدد سے مشتبہ اہداف کی نشاندہی کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں کو بھی ممکنہ نتائج کے طور پر شمار کیا جاتا تھا۔
اب اس حوالے سے نیتن یاہو نے ہفتے کی شام سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے سربراہ، داخلی خفیہ ادارے شِن بیت کے سربراہ اور اٹارنی جنرل اس فلم میں شریک اہلکاروں کے خلاف تحقیقات شروع کریں۔
انہوں نے کہا کہ کہ ذمے داروں کے خلاف خفیہ معلومات افشا کرنے، مبینہ مجرمانہ ہتکِ عزت اور اسرائیل کے سفارتی اور سیکیورٹی مفادات کو نقصان پہنچانے کے الزامات پر کارروائی کی جائے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے فلم کو گمراہ کن اور جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی سطح پر اسرائیلی ریاست اور فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے فلم میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
فوج کا مؤقف ہے کہ فوجی اہداف کے انتخاب اور حملوں کی منظوری کا فیصلہ انسانی اہلکار کرتے ہیں اور یہ عمل اس کے مقررہ ضوابط کے مطابق ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ فلم ’نازا‘ کی ہدایت کاری اسرائیلی فلم ساز یووال ابراہام اور ریچل شور نے کی ہے۔
فلم کو وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری ایوارڈ ملا جبکہ اس کی نمائش کے بعد تقریباً 25 منٹ تک تالیاں بجائی گئیں۔
THE PUBLIC POST