موٹاپے کا ممکنہ حل: چربی کے خلیوں کو تباہ کرنے والا نیا انجیکشن

موٹاپے کے علاج کے لیے سائنس دان ایک نئی تجرباتی دوا پر کام کر رہے ہیں، جو روایتی طریقوں کے برعکس جسم میں چربی کے خلیوں کو صرف چھوٹا کرنے کے بجائے انہیں جڑ سے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ابتدائی تحقیق میں اس دوا کے استعمال سے پیٹ کے اندرونی اعضاء کے گرد جمع چربی میں اوسطاً 12 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقہ علاج کی افادیت اور حفاظت کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق اس تجرباتی انجکشن کا نام ’’سی بی ایل 514‘‘ ہے۔ یہ دوا جسم کے چربی والے خلیوں کو ختم کرنے کے ایک خاص طریقہ کار پر کام کرتی ہے۔ محققین کو امید ہے کہ مستقبل میں اس طریقے سے موٹاپے اور اس سے جڑے صحت کے مسائل سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔

عام طور پر وزن کم ہونے کے دوران جسم میں موجود چربی کے خلیوں کا حجم کم ہوتا ہے، لیکن نئی دوا کا مقصد ان خلیوں کو ختم کرنا ہے۔ اس عمل کو طبی زبان میں ’’اپوپٹوسس‘‘کہا جاتا ہے، جس میں خلیے ایک قدرتی اور منظم طریقے سے اپنی زندگی کا اختتام کرتے ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ طریقہ خاص طور پر جسم کے ان حصوں میں چربی کم کرنے کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے جہاں چربی جمع ہونے سے صحت کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ اس میں جلد کے نیچے موجود چربی کے علاوہ پیٹ کے اندرونی اعضاء کے گرد جمع ہونے والی چربی بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف الاباما، برمنگھم سے وابستہ ہارمونز کے ماہر ٹموتھی گاروی کے مطابق، چربی کم ہونے سے جسمانی ساخت میں بہتری آسکتی ہے، لیکن صحت کے لحاظ سے زیادہ اہم بات اندرونی چربی میں کمی اور بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں بہتری ہے۔

اس دوا کے اثرات جانچنے کے لیے دو الگ آزمائشیں کی گئیں، جن میں مجموعی طور پر 280 افراد نے حصہ لیا۔ ان آزمائشوں میں دوا کی مدد سے جلد کے نیچے موجود چربی کم کرنے کے نتائج بھی دیکھے گئے۔

بعد میں ان میں سے 41 افراد کے اعداد و شمار کا الگ سے جائزہ لیا گیا تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ پیٹ کے اندرونی اعضاء کے گرد جمع چربی پر دوا کا کیا اثر پڑتا ہے۔

نتائج کے مطابق 12 ہفتوں تک انجکشن لینے والے افراد میں اندرونی چربی کی مقدار اوسطاً 12.01 فیصد کم ہوئی۔ اس کے برعکس، دوا کے بجائے بے اثر انجکشن (پلاسیبو) لینے والے افراد میں اسی عرصے کے دوران اندرونی چربی اوسطاً 5.68 فیصد بڑھ گئی۔

پیٹ کے اندرونی اعضاء کے گرد جمع ہونے والی چربی کو عام چربی کے مقابلے میں زیادہ تشویش ناک سمجھا جاتا ہے۔ اس کی زیادہ مقدار ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کے خطرات سے منسلک ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ وبائیات میری سپریکلی کے مطابق، یہ جاننے کے لیے مزید بڑی آزمائشیں ضروری ہیں کہ چربی میں ہونے والی یہ کمی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے یا نہیں، اور کیا اس سے لوگوں کی صحت میں واقعی بہتری آتی ہے۔

محققین نے جانوروں پر کیے گئے تجربات میں سی بی ایل 514 کو ٹیرزیپاٹائڈ نامی دوا کے ساتھ بھی آزمایا۔ نتائج کے مطابق دونوں ادویات لینے والے چوہوں کا وزن صرف ٹیرزیپاٹائڈ لینے والے چوہوں کے مقابلے میں زیادہ کم ہوا۔

تجربے میں یہ بھی دیکھا گیا کہ دونوں ادویات کا استعمال بند کرنے کے بعد ان چوہوں کا وزن نسبتاً کم واپس بڑھا۔ محققین کا خیال ہے کہ اگر چربی کے خلیوں کی تعداد کم کردی جائے تو کھویا ہوا وزن دوبارہ بڑھنے کا عمل متاثر ہوسکتا ہے، لیکن اس بات کی تصدیق کے لیے انسانوں پر تحقیق کرنا ضروری ہے۔

محققین کے مطابق اب تک دستیاب نتائج ابتدائی نوعیت کے ہیں اور ان کی بنیاد کانفرنس میں پیش کی گئی معلومات اور کمپنی کے اعلانات پر ہے، نہ کہ کسی ایسے مکمل تحقیقی مقالے پر جو سائنسی ماہرین کی جانچ کے بعد شائع ہوا ہو۔

اس لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ دوا کے طویل مدتی استعمال سے کوئی نقصان تو نہیں ہوتا، جسم کے دوسرے حصوں میں چربی جمع ہونے کا خطرہ تو نہیں بڑھتا اور خون میں چکنائی یا شوگر کے توازن پر کوئی منفی اثر تو نہیں پڑتا۔

یہ دوا ابتدا میں جلد کے نیچے چربی کی گانٹھوں، جنہیں لائپوما کہا جاتا ہے، کے علاج کے لیے تیار کی گئی تھی۔ اب محققین اس کے ممکنہ وسیع استعمال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

نوٹ: وزن کم کرنے کے لیے اس کا استعمال طبی منظوری اور ماہر ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔

Check Also

مٹی کے برتن میں کھانا پکانے کے ایسے فائدےجو آپ کو حیران کر دیں گے

مٹی کے برتنوں میں کھانا پکانے کا رواج صدیوں پُرانا ہے، لیکن جدید دور میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *