کسٹمز ڈرائی پورٹ پر اربوں کا بڑا فراڈ،جعلی پے آرڈرز کا اسکینڈل بے نقاب!

رپورٹ : عمران خان

پشاور میں اضاخیل ڈرائی پورٹ پر فیصل بینک کے نام پر کسٹمز کلیئرنس کا ہلا دینے والا کھیل فاش، 3 مقدمات درج؛ گزشتہ دو سال کے تمام پے آرڈرز کا آڈٹ شروع، امپورٹرز، کسٹمز کا ایل ڈی سی نبیل ناصر اور بینک مینیجر نامزد، اعلیٰ افسران کو بچانے کی مبینہ کوششوں پر شدید سوالات،**جعلی اسٹامپس اور بوگس اکاؤنٹس کا مکروہ دھندا، قومی خزانے کو اربوں کا چونا!

تفصیلات کے مطابق پشاور کے اضاخیل ڈرائی پورٹ پر کسٹمز کلیئرنس کے دوران فیصل بینک لمیٹڈ کے نام پر جعلی اور بوگس پے آرڈرز (Pay Orders) کے ذریعے کنسائمنٹس پاس کرانے کا ایک اور انتہائی سنسنی خیز اور ہلا دینے والا اسکینڈل بے نقاب ہو گیا ہے۔ چیف کلکٹر کسٹمز اپریزمنٹ پشاور عبدالوحید مروت کی زیرِ نگرانی سامنے آنے والے اس گھناؤنے فراڈ کے بعد محکمہ کسٹمز اور بینکنگ حلقوں میں کہرام مچ گیا ہے، اور گزشتہ دو برس کے دوران کلیئر ہونے والی تمام کنسائمنٹس کے پے آرڈرز کا جامع آڈٹ کرنے کا سخت حکم جاری کر دیا گیا ہے۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق جعلی پے آرڈرز کے ذریعے ہونے والی اس لوٹ مار کے انکشاف پر اب تک 3 ایف آئی آرز درج کی جا چکی ہیں۔ مقدمات میں امپورٹرز میسرز عجوہ انٹرپرائزز کے مالک عمر حیات، میسرز بیسٹ کارپوریشن کے مالک اویس خان، میسرز یوسف زئی فوڈز، جعلی پے آرڈرز جمع کرانے والے عبدالکیل، کسٹمز کے ایل ڈی سی نبیل ناصر اور فیصل بینک لمیٹڈ شاہ خض خیبر ایجنسی برانچ کے آپریشن منیجر کو نامزد کیا گیا ہے۔ ابتدائی انکشافات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پے آرڈر کی دستاویزات تو اصلی ہیں لیکن ان پر اکاؤنٹس اور بینک کی جعلی اسٹامپس (مہریں) استعمال کر کے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

ذرائع نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ اس پورے اسکینڈل میں مچھلیوں کو پھنسانے اور مگرمچھوں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے؛ کسٹمز حکام نے اعلیٰ افسران کو بچانے کے لیے محض ایک ایل ڈی سی (LDC) کو مقدمے میں گھسیٹا ہے، جبکہ فیصل بینک کے بھی بڑے مافیا کے بجائے کارروائی کو محدود رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، دو سالہ آڈٹ مکمل ہونے کے بعد کئی بڑے چہروں سے نقاب الٹنے اور مزید سنسنی خیز انکشافات سامنے آنے کی توقع ہے۔

Check Also

ایف بی آر میں کانٹریکٹ بھرتیوں کا تنازع ،اصلاحات کے نام پر 5ارب ڈالر کے قرضے!

رپورٹ : عمران خان ایف بی آر میں اصلاحات کے نام پر اربوں ڈالر کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *