حمل ٹھہرنے سے قبل والدین کا موٹاپا بچوں میں فیٹی لیور کا خطرہ بڑھا دیتا ہے: تحقیق

ایک نئی طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حمل سے قبل والدین—یعنی ماں اور باپ—دونوں کا موٹاپا بچوں میں مستقبل میں فیٹی لیور بیماری کے خطرے میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔

طبی جریدے گٹ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 1900 سے زائد نوجوان افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ والدین کا باڈی ماس انڈیکس (BMI) بچوں کی صحت پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔

نتائج کے مطابق ماں کے BMI میں ہر ایک یونٹ اضافہ بچے میں فیٹی لیور کے خطرے کو تقریباً 10 فیصد تک بڑھا دیتا ہے، جبکہ باپ کے BMI میں ہر ایک یونٹ اضافے سے یہ خطرہ 9 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اگر دونوں والدین موٹاپے کا شکار ہوں تو بچے میں اس بیماری کا خطرہ تین گنا سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔

فیٹی لیور بیماری ایک ایسی کیفیت ہے جس میں جگر میں چربی جمع ہونے لگتی ہے۔ ابتدائی مراحل میں یہ بیماری اکثر خاموش رہتی ہے، تاہم وقت کے ساتھ یہ جگر کی سوزش، سروسس اور جگر کے فیل ہونے جیسے سنگین مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ صرف جینیاتی نہیں بلکہ ایپی جینیٹک تبدیلیاں اور طرزِ زندگی کے مشترکہ اثرات کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی بچے کی صحت کی بنیاد حمل سے پہلے ہی رکھی جا سکتی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ باپ کی صحت کو بھی اتنی ہی اہمیت دینی چاہیے جتنی ماں کی، کیونکہ دونوں والدین کا مجموعی صحتیاتی اثر بچے کے مستقبل کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔

طبی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ والدین بننے سے پہلے وزن کو متوازن رکھا جائے، صحت مند غذا اپنائی جائے، باقاعدہ ورزش کی جائے اور کسی بھی بیماری کا بروقت علاج کیا جائے تاکہ آنے والی نسل کو اس خطرناک بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔

Check Also

’’کراچی میں رہنا ایسا ہے جیسے پیرس میں رہنا‘‘، شرمیلا فاروقی

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کراچی کے حوالے سے ایک دلچسپ اور …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *