کراچی: سیکرٹری جنرل عوام پاکستان پارٹی مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پانچ سال سے زیرِ تعمیر یونیورسٹی روڈ پیپلز پارٹی کی کرپشن اور نااہلی کی واضح مثال بن چکی ہے۔ کراچی کی حالت جنگ زدہ شہروں سے زیادہ خراب ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی روڈ گزشتہ پانچ برس سے مکمل نہیں ہو سکی جو پیپلز پارٹی کے لیے سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کو نظر انداز کیا گیا اور اسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ کراچی میں اس وقت 15 ہزار بسوں کی شدید کمی ہے، ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی آدھی آبادی کو پینے کا پانی میسر نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اردو یونیورسٹی کے اساتذہ کو کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں، حالانکہ حکومت شہریوں اور کاروباری طبقے سے ٹیکس وصول کرتی ہے۔ متوسط طبقے کے طلبہ اس جامعہ میں زیرِ تعلیم ہیں مگر اساتذہ کو تین ماہ سے ادائیگیاں نہیں ہوئیں۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جب وزیر اعظم ہاؤس کے ملازمین، ایچ ای سی کے چیئرمین، وی سی ، خالد مقبول صدیقی اور ان کے سیکرٹری کو تنخواہ وقت پر ملتی ہے تو ان غریب اساتذہ کا کیا قصور ہے، اصل میں بچوں کو تعلیم یہی اساتذہ دیتے ہیں باقی تو ایڈمنسٹریٹو کے طور پر کام کررہے ہیں۔
مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ حالیہ لیو ایبل انڈیکس میں دنیا کے 173 شہروں میں کراچی کا نمبر 170 آیا ہے جو شہر کی گرتی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں 18 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، اس لیے اب ماضی کی حکومتوں پر ذمہ داری ڈالنا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں تعلیم کا معیار سب سے کمزور ہے جبکہ صحت اور پولیس کے نظام کی صورتحال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ چار برسوں میں عوام کی اوسط آمدنی میں کمی آئی ہے اور ملک میں پیٹرول مہنگا ہونے کی بڑی وجہ ٹیکسز ہیں۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چار سال کے دوران مہنگائی میں 78 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث تنخواہ دار طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے، جبکہ 29 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔
THE PUBLIC POST