کراچی : حیدرآباد رینج ٹھٹھہ پولیس نے نیا ناظم آباد سے دو سالہ اذان کے مبینہ اغوا میں ملوث ایک شخص کو حراست میں لے لیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں نیا ناظم آباد سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والے 2 سالہ معصوم بچے اذان کے معاملے پر حیدرآباد رینج ٹھٹھہ پولیس نے ایک خفیہ کارروائی کے دوران مبینہ اغوا میں ملوث ایک اہم ملزم کو حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ ٹھٹھہ پولیس نے مصدقہ اطلاعات پر علاقے کے گاؤں سلطان آباد تھیم گوٹھ میں ایک بڑا سرچ آپریشن کیا، اس آپریشن کے نتیجے میں پولیس نے ایک مشکوک شخص کو پکڑلیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ زیرِ حراست شخص کا تعلق براہِ راست کراچی سے اغوا ہونے والے بچے اذان کے کیس سے ہے۔
ٹھٹھہ پولیس نے ابتدائی کاغذی اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد گرفتار ملزم کو کراچی ویسٹ پولیس کے حوالے کر دیا ہے، ویسٹ پولیس کی خصوصی ٹیم ملزم کو سخت سیکیورٹی میں کراچی منتقل کر رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی کراچی منتقلی کے بعد اس سے اذان کے اغوا، تاوان کی مبینہ کالز اور اس گھناؤنے جرم میں شامل دیگر سہولت کاروں کے بارے میں تفصیلی اور سخت تحقیقات کی جائیں گی، جس سے کیس کے پسِ پردہ چھپے دیگر حقائق بھی سامنے آنے کی توقع ہے۔
خیال رہے کراچی کے علاقے منگھوپیر سے مبینہ اغواء اذان کی بازیابی پر والدین اورپولیس کے متضاد بیانات نے معاملہ مزید مشکوک بنادیا ہے جبکہ کئی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں کہ بچہ اغواکیا گیا یا لاپتہ ہوا؟ پولیس نے بازیاب کرایا یا اہل خانہ کو ملا؟؟
ذرائع کا کہنا ہے والدین سے پچاس لاکھ تاوان کا مطالبہ کیا گیا تو ملزمان نے بچہ کیوں چھوڑا؟ پولیس نے کریڈٹ لینے کی جلد بازی کیوں کی؟ سی آئی اے حکام بھی کہتے ہیں اگرتاوان کی کال آئی تھی تو ایک گھنٹے میں ہی بچہ کیسے مل گیا۔
مغوی اذان کی والدہ نے پولیس کے تمام دعووں کی قلعی کھولتے ہوئے بتایا تھا کہ نہ تو سوسائٹی انتظامیہ نے ان کا ساتھ دیا اور نہ ہی پولیس نے کوئی مدد کی، بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملزمان دباؤ میں آ گئے اور انہوں نے بچے کو خود ہی چھوڑ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے کسی نامعلوم سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پوسٹ اپلوڈ کروائی کہ “ایک بچہ سڑک پر چلتا اور روتا ہوا ملا ہے، جس کا ہے وہ آکر لے جائے”، یہ پوسٹ صبح 9 بجےکی گئی، جب ہم بتائے گئے مقام پر پہنچیں تو وہاں کےگھر والوں نے 5 سے 6 الگ بیانات دیئے۔
THE PUBLIC POST