نیو یارک میں امیگریشن اہلکار نے بچے کے سامنے والد کو گولی مار دی، ممدانی کا شدید ردعمل

امریکہ کے شہر نیویارک میں امیگریشن حکام نے 5 سالہ بچے کے سامنے ایک شخص کو فائرنگ کر کے زخمی کیا جس پر میئر ظہران ممدانی نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ‘صدر ٹرمپ سے بات کریں گے۔’

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام اور عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے وقت 5 سالہ بچہ گاڑی میں موجود تھا، تاہم بچے کو جسمانی طور پر نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں ہے۔

بعض میڈیا رپورٹس میں گاڑی میں موجود بچے کو زخمی شخص کا بیٹا بتایا گیا ہے کہ تاہم امریکی حکام نے اس بارے میں کوئی وضاحت جاری نہیں کہ دونوں کا آپس میں کیا رشتہ تھا اور اتنا چھوٹا بچہ اس شخص کی گاڑی میں کیا کر رہا تھا۔

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق امیگریشن اہلکاروں نے گاڑی کو گھیرنے کے بعد متعدد گولیاں چلائیں۔

ممدانی نے کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کریں گے اور ان سے نیویارک میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی تمام کارروائیاں ختم کرنے کا مطالبہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی کمنیونٹی میں خوف و ہراس پھیلانے والی کارروائیوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟
نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق فائرنگ کا واقعہ جمعرات کی سہ پہر تقریباً 4 بجے برونکس کے علاقے ماربل ہِل میں پیش آیا۔ زخمی شخص کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق زخمی شخص واقعے کے بعد ہوش میں تھا۔ محکمہ پولیس نے واضح کیا کہ اس کے اہلکار فائرنگ میں ملوث نہیں تھے اور معاملے کی تحقیقات وفاقی حکام کر رہے ہیں۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا کہ اہلکار برونکس میں ایک کارروائی کے دوران ڈومینیکن ریپبلک سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جس کا مجرمانہ ریکارڈ تھا۔

محکمے کے مطابق کارروائی کے دوران ایک امیگریشن اہلکار نے اپنی بندوق سے فائر کیا، جس کے نتیجے میں مذکورہ شخص زخمی ہوا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اہلکاروں نے فوری طور پر اسے طبی امداد فراہم کی اور اسے مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

عینی شاہد نے کیا دیکھا؟
واقعے کے قریب ایک ریسٹورنٹ میں کام کرنے والے پیڈرو الماریز نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے گولیوں کی آواز سنی تو باہر نکل کر دیکھا کہ جائے وقوعہ پر آئی سی ای کے لباس میں ملبوس کئی امیگریشن اہلکار موجود تھے۔

ان کے مطابق وہاں 3 سے 4 گاڑیاں بھی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیویارک پولیس کے اہلکار تقریباً 10 منٹ بعد پہنچے، جبکہ زخمی شخص کو اس کی گاڑی سے ایمبولینس آنے کے بعد نکالا گیا۔

واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو زرد رنگ کی ٹیپ لگا کر گھیرے میں لے لیا۔ رائٹرز کے ایک عینی شاہد کے مطابق قریب واقع عمارت کی بالکونی میں کھڑی ایک خاتون اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے بچوں کو لے جانے پر احتجاج کر رہی تھیں۔

ٹرمپ کے دور میں 21 افراد پر فائرنگ
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن کی ملک بدری کی کارروائیوں میں اضافے پر ملک بھر میں بحث جاری ہے۔

رائٹرز کے مطابق ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے وفاقی امیگریشن اہلکاروں کی فائرنگ کے واقعات میں کم از کم 21 افراد کو گولیاں لگ چکی ہیں، جن میں سے 7 ہلاک ہوئے ہیں۔

حکومت کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ ملک بدری کی کارروائیوں میں تیزی کے باعث امیگریشن اہلکاروں اور شہریوں کے درمیان پُرتشدد تصادم کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ وہ ان کارروائیوں میں ملوث اہلکاروں کے احتساب کے طریقۂ کار پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔

تاہم نیویارک میں پیش آنے والے تازہ واقعے کے محرکات اور فائرنگ کے حالات کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ وفاقی حکام کی تحقیقات سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ کارروائی کے دوران فائرنگ کن حالات میں کی گئی۔

Check Also

امریکا:تین سالہ بچے نےکتاب شائع کرکے عالمی ریکارڈ قائم کرلیا

امریکا میں بھارتی نژاد 3 سالہ بچے ادوے جین نے کتاب شائع کرکے گنیز ورلڈ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *