صوبائی دارالحکومت لاہور میں پاکستان عوام راج تحریک کے رہنما اور ٹی وی میزبان اقرار الحسن کو ڈی ایچ اے سے مبینہ طور پر حراست لے لیا گیا ۔
اہل خانہ کے مطابق اقرار الحسن کو مبینہ طور پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اہلکاروں نے حراست میں لیا تاہم ادارے کی جانب سے اب تک ان کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔
اقرار الحسن کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ اقرار الحسن کو کس وجہ سے حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں این سی سی آئی اے کے تھانے سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن وہاں سے بھی کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔
اقرار الحسن کی موجودہ جگہ اور انہیں حراست میں لیے جانے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہوسکیں۔
دوسری جانب این سی سی آئی اے نے تاحال اقرار الحسن کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی۔ ادارے کے حکام بھی اس معاملے پر مؤقف دینے سے گریزاں ہیں۔
اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ رات کو سو رہے تھے کہ باہر سے زور زور سے آوازیں آنا شروع ہو گئیں کہ اقرار کو باہر نکالو ورنہ ہم سب توڑ دیں گے، وہ اوپر پھلانگتے ہوئے آئے اور مجھے دھکے دیے ، 2 لوگوں نے اقرار کو پکڑا، انہوں نے موبائل فون اور لیپ ٹاپ بھی اٹھا لئے اور جاتے ہوئے سی سی ٹی وی کیمرے بھی لے گئے، ویڈیو بنانے پر مجھ سے بھی فون چھین لئے۔
اقرار الحسن کی مبینہ گمشدگی کے بعد ان کی اہلیہ اور دیگر اہل خانہ کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جن میں انہیں ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
ٹی وی میزبان وسیم بادامی نے بھی اقرار الحسن کے بارے میں معلومات نہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت تک معلوم نہیں ہوسکا کہ اقرار الحسن کہاں ہیں۔
THE PUBLIC POST