وزیرِ اعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ خیبر پختون خوا حکومت آئینی و قانونی کردار ادا کرنے پر رضا مند ہوجاتی تو عبوری نظام کی ضرورت ہی نہیں تھی، اب بھی پی ٹی آئی اپنا آئینی و قانونی کردار نبھائے تو سوچا جا سکتا ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام ’جیو پاکستان’ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کےخلاف قوم متحدہ نہ ہوئی، صوبائی اور مرکزی حکومت کی ایک پالیسی نہ ہوئی تو ملک کے وجود کو خطرہ ہے۔
رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی جب وزیرِاعظم تھے تو انہوں نے اپوزیشن لیڈر کو فون تک نہیں کیا، موجودہ وزیرِ اعظم جب بھی ایوان میں آتے ہیں تو اپوزیشن لیڈر سے ہاتھ ملاتے ہیں، اپوزیشن اپنے رویوں کی وجہ سے نقصان اٹھا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے خود افسوس ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی بہنوں کو نظر بند کرنا پڑا، سب کو معلوم ہے کہ وہ لانگ مارچ کے حوالے سے کیا گفتگو کرتی تھیں، ان کی بہنوں نے گورنر ہاؤس پر چڑھائی کرنے کے بیانات دیے، پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی کس قسم کی گفتگو کرتا رہا، یہ سب کے علم میں ہے، صورتِ حال کو قابو میں رکھنے کے لیے نظر بندی مجبوری تھی۔
رانا ثناء اللّٰہ نے خبردار کیا کہ دہشت گردی کا فوری خاتمہ نہ کیا گیا اور قوم سمیت وفاقی و صوبائی حکومتیں ایک پالیسی پر متحد نہ ہوئیں تو پاکستان کے وجود کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
انہوں کہا کہ بھارت اب پاکستان کے ساتھ روایتی جنگ نہیں لڑ سکتا، پورا خطہ پاکستان کو سیکیورٹی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کے مشیر نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے افغانستان میں اپنے ٹھکانے قائم کر لیے ہیں اور پیسے دے کر دہشت گردی کروا رہا ہے۔
THE PUBLIC POST