امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو ’بہت اچھی‘ قرار دیے جانے کے بعد بدھ کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایشیائی کاروبار کے ابتدائی اوقات میں عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 98.91 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 89.93 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ دونوں قیمتیں حالیہ عرصے میں کئی مرتبہ عبور کیے گئے 100 ڈالر کی سطح سے نیچے آگئیں۔
قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں سے پیدا ہونے والی یہ توقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کو مذاکرات کے ذریعے کم کرنے یا کسی معاہدے کی طرف بڑھنے کی کوشش کامیاب ہوسکتی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق مارکیٹ نے ٹرمپ کے ایران سے متعلق مثبت مذاکراتی بیان کو اہمیت دی
ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر تقریباً تین گھنٹے طویل ملاقات ہوئی۔ ان کے مطابق یہ ملاقات ’’بہت اچھی‘‘ اور ’’بہت نتیجہ خیز‘‘ رہی اور مستقبل قریب میں ایک اور ملاقات بھی متوقع ہے۔
اس سے قبل امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان نیویارک میں ثالثوں کے ذریعے بھی طویل بات چیت ہوئی تھی۔ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے مذاکرات کے ایک دور کو تعمیری اور امید افزا قرار دیا تھا، جبکہ ثالثوں کی جانب سے رابطے جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔
عالمی توانائی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، آبنائے ہرمز میں جہازرانی اور امریکا ایران تنازع سے متعلق ہر نئی پیش رفت پر تیزی سے ردعمل دے رہی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ دنوں میں ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں بہتری اور سفارتی رابطوں کی اطلاعات نے بھی قیمتوں پر دباؤ کم کیا ہے۔
THE PUBLIC POST