کراچی: ملیر 15 کے علاقے میں زیر تعمیر شاپنگ مال پر موٹر سائیکل سوار ملزمان کی اندھا دھند فائرنگ سے سیکیورٹی گارڈ جاں بحق ہوگیا۔
ترجمان کراچی پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 25 سالہ علی رضا ولد نثار کے نام سے کی گئی، مقتول نجی سیکیورٹی کمپنی کا گارڈ تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں لیاری گینگ وار کے کمانڈر عبدالصمد کاٹھیاواڑی کا گروپ ملوث ہے جس نے چند ماہ قبل بھی بھتہ نہ ملنے پر شاپنگ مال پر فائرنگ کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ چند ماہ قبل شاپنگ مال کے مالکان کو بھتے کے لیے پرچی دی گئی تھی اور بھتہ نہ دینے پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی تھی۔

ملزمان شاپنگ مال پر فائرنگ کررہے ہیں جبکہ ان سیٹ میں مقتول سیکیورٹی گارڈ کی یادگار تصویر
واقعے کے چند روز بعد پولیس نے ملیر میں ایک مبینہ مقابلے میں تین افراد کو ہلاک کردیا اور بتایا گیا تھا کہ مارے جانے والے تینوں افراد وہی ہیں جو زیرتعمیر میمن شاپنگ مال پر فائرنگ میں ملوث تھے۔
ایس ایچ او ملیر سٹی کا کہنا ہے کہ شبہ ہے کہ موجودہ فائرنگ کے واقعے میں بھی عبدالصمد کاٹھیاواڑی کے کارندے ملوث ہیں، بھتہ خوروں نے اپنے ساتھیوں کی ایس آئی یو کے ہاتھوں ہلاکت کا بدلہ لیا ہے۔
مقتول سیکیورٹی گارڈ کے کزن نے بتایا کہ مقتول گزشتہ ڈھائی ماہ سے سیکیورٹی کمپنی کی جانب سے میمن شاپنگ مال میں تعینات تھا، مقتول سیکیورٹی گارڈ غیر شادی شدہ اور تین بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھا، مقتول کے والد اور دیگر بھائی مزدوری کرتے ہیں۔
واضح رہے عبدالصمد کاٹھیاواڑی ابتدائی دنوں میں لیاری گینگ وار کے اہم کمانڈر وصی اللہ لاکھو کے لیے کام کرتا تھا تاہم جرائم کی دنیا میں شہرت حاصل کرنے کے بعد اس نے اپنا ایک گروپ بنالیا اور سرجانی ٹاؤن میں اپنا ٹھکانہ بنایا تھا۔
عبدالصمد عرف کاٹھیاواڑی نے قانون نافذ کرے والے اداروں کا اپنے گرد گھیرا تنگ ہوتا دیکھا تو وہ پڑوسی ملک ایران فرار ہوگیا اور گزشتہ کئی سال سے وہیں بیٹھ کر اپنا گروپ چلا رہا ہے۔
THE PUBLIC POST