میر رضا قتل کیس:حکومت سندھ کی حساس اداروں اور رینجرز سے جے آئی ٹی کیلئے ارکان نامزد کرنے کی درخواست

کراچی: حکومت سندھ نے میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی سفارش پر قائم کی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے ارکان نامزد کرنے کے لیے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) اور سندھ رینجرز کو خطوط لکھ دیے۔

25 سالہ تاجر میر رضا علی 28 جولائی کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں واقع اپنے گھر سے نکلنے کے بعد لاپتا ہوگئے تھے۔ اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر میں جھاڑیوں سے ملی تھی جبکہ جسم پر گولی لگنے کا زخم تھا۔

15 اکتوبر کو حکومت کو پیش کی گئی 62 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کمیشن نے موت کو ’قتل‘ قرار دیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی سفارش کی تھی۔

سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس عمر سیال جو ایک رکنی کمیشن کے سربراہ تھے، نے سفارش کی تھی کہ غیر جانب دارانہ، جامع اور قابلِ اعتماد تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے آئی ایس آئی، آئی بی، سندھ رینجرز اور این سی سی آئی اے کے سینئر نمائندوں کو جے آئی ٹی میں شامل کیا جائے۔

کمیشن نے مغربی زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس (ڈی آئی جی) عرفان بلوچ کو جے آئی ٹی کا سربراہ بنانے کی بھی سفارش کی تھی۔

کمیشن کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی قائم کی جائے گی اور اس سلسلے میں سمری وزیراعلیٰ کو بھیج دی گئی ہے۔

محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے 23 اکتوبر کو بھیجے گئے خطوط کا ہم نیوز ڈیجیٹل نے مشاہدہ کیا ہے، جن میں آئی ایس آئی، آئی بی، این سی سی آئی اے اور سندھ رینجرز سے کہا گیا ہے کہ وہ میر رضا کے قتل کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے لیے گریڈ 18 یا اس سے اوپر کے کسی سینئر افسر کو نامزد کریں۔ جے آئی ٹی کی سربراہی ڈی آئی جی عرفان بلوچ کریں گے۔

خطوط میں متعلقہ اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ سات روز کے اندر اپنے نمائندوں کے نام بھیجیں تاکہ جے آئی ٹی اپنا کام شروع کرسکے۔

این سی سی آئی اے کو بھیجے گئے خط میں محکمہ داخلہ نے خصوصی طور پر ایسے سینئر افسر کی نامزدگی کی درخواست کی ہے جسے ڈیجیٹل فرانزک میں مہارت حاصل ہو کیونکہ تحقیقات کے دوران موبائل فونز، ایپل واچ، آئی کلاؤڈ، سوشل میڈیا اور کرپٹو کرنسی پلیٹ فارم بائنانس کے ریکارڈ کا تجزیہ کرنا ہوگا۔

پولیس افسران کے خلاف کارروائی کے لیے آئی جی کو خط
صوبائی حکومت نے محکمہ داخلہ کے ذریعے سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) کو بھی خط لکھا ہے اور عدالتی کمیشن کی جانب سے غفلت کا ذمہ دار قرار دیے گئے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کرنے کا کہا ہے۔

جسٹس عمر سیال کی جانب سے پیش کی گئی 62 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا کہ ”یہ کیس پولیس کی جانب سے تحقیقات میں مکمل ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔“

رپورٹ میں کہا گیا، ”پولیس نے تمام ضروری طریقہ کار کی خلاف ورزی کی، چاہے یہ جان بوجھ کر ہوا یا انجانے میں۔ ان طریقہ کار پر عمل کرنا عدالتی جانچ پر پورا اترنے اور کامیاب قانونی کارروائی کے لیے ضروری تھا۔“

کمیشن کے مطابق تحقیقات کے ابتدائی مراحل میں حقائق چھپانے کی منظم کوشش کے امکان کو حتمی طور پر رد نہیں کیا جاسکتا۔ کمیشن نے نشاندہی کی کہ سینئر پولیس افسران نے تفتیش میں ہونے والی کوتاہیوں کو تسلیم کرنے، ان کا ازالہ کرنے یا اس کی کوشش کرنے کے بجائے انہیں نظرانداز کیا۔

ڈاکٹر اسامہ شیخ معطل
عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں میڈیکو لیگل افسر (ایم ایل او) ڈاکٹر اسامہ شیخ کے ’بچگانہ رویے‘ پر تنقید کی تھی۔ ڈاکٹر اسامہ نے ابتدائی میڈیکو لیگل معائنہ کیا تھا، جس کے نتائج بعد میں دوسرے پوسٹ مارٹم کے ذریعے غلط ثابت ہوئے۔

صوبائی حکومت نے عدالتی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے قائم ذیلی کمیٹی کے فیصلے سے سندھ کے سیکرٹری صحت کو خط کے ذریعے آگاہ کیا ہے۔

فیصلے کے تحت ڈاکٹر اسامہ کو معطل کرکے ان کے خلاف ای اینڈ ڈی (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) قواعد کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ کمیشن کی سفارش کے مطابق انہیں تربیت کے لیے بھی بھیجا جائے گا۔

وزارت داخلہ سے رابطہ
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اسے تحقیقات کرنے کے اختیارات حاصل نہیں تھے، اس لیے حتمی طور پر یہ طے کرنا مشکل تھا کہ حقائق چھپانے کی منظم کوشش کی گئی یا نہیں۔ تاہم کمیشن نے کہا تھا کہ ”بعض ناقابلِ فہم اقدامات کا جواز پیش کرنا مشکل ہے اور ان سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کسی مرحلے پر ہوا ہو۔“

اس لیے کمیشن نے سفارش کی تھی کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کی جائے جو قصوروار پائے جانے والے پولیس افسران کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرے۔

کمیشن کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے حکومت سندھ نے وزارت داخلہ کو بھی خط لکھا ہے۔

صوبائی حکومت نے اپنے خط میں ایف آئی اے سے درخواست کی ہے کہ تحقیقات میں مہارت رکھنے والے گریڈ 20 یا اس سے اوپر کے کسی سینئر افسر کو کمیٹی کا سربراہ نامزد کیا جائے۔ ڈی آئی جی عرفان بلوچ اور اسپیشل برانچ کے ڈی آئی جی نعیم احمد شیخ کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔

سندھ کے ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) ذوالفقار علی لاڑک پر مشتمل ایک رکنی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے، جو کمیشن کی رپورٹ میں نامزد ہر افسر کے کردار کا جائزہ لے گی۔ ڈی آئی جی عرفان بلوچ اس کمیٹی کی معاونت کریں گے۔

Check Also

گینگ ریپ کا شکار غیر ملکی لڑکی کا ملزمان سے متعلق بیان، معاملہ نیا رخ اختیار کر گیا، اہم انکشافات

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار ہونے والی غیر ملکی لڑکی کا ملزمان کے بارے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *