رپورٹ: عمران خان
ایف بی آر میں 3 لاکھ روپے تک کی شاہانہ مراعات پر کانٹریکٹ بھرتیاں ،مستقل افسران نظرانداز،ایک لاکھ 35ہزار کی فکسڈ بنیادی تنخواہ کے ساتھ 6اضافی تنخواہوں کا اعزازیہ کی سہولت ،پنشن، گریجویٹی اور مستقل ملازمت کے بغیر بھاری پیکج، مراعات کی تقسیم اور شفافیت پر سوالات
تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں کنٹریکٹ بھرتیوں کے لیے بھاری تنخواہوں اور خصوصی مراعات کا معاملہ زیرِ بحث آگیا۔ کسٹمز کے سینٹرلائزڈ اسسمنٹ یونٹس میں ایک سال کے کنٹریکٹ پر تعینات ہونے والے گڈز ایویلیوایٹرز کو ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے فکسڈ تنخواہ کے ساتھ کارکردگی کی بنیاد پر اضافی آنریریم بھی دیا جاسکے گا، جس کے باعث بعض ملازمین کی ماہانہ آمدن 3 لاکھ روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔
تقرری کی شرائط کے مطابق بہترین کارکردگی دکھانے والے 25 فیصد ملازمین کو چھ اضافی تنخواہوں کے مساوی آنریریم، اگلے 25 فیصد کو پانچ اور تیسرے درجے کے ملازمین کو ساڑھے تین اضافی تنخواہوں کے مساوی رقم دینے کی گنجائش رکھی گئی ہے، جبکہ آخری درجے میں آنے والے ملازمین کو اضافی آنریریم نہیں ملے گا۔
دستیاب معلومات کے مطابق کارکردگی کے اس نظام میں بہترین درجے کے ملازم کی ماہانہ آمدن تقریباً 3 لاکھ 75 ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ چاروں درجوں کو ملا کر فی ملازم اوسط ماہانہ خرچ تقریباً 2 لاکھ 76 ہزار روپے بتایا گیا ہے۔ تاہم خصوصی آنریریم کی ادائیگی کارکردگی کے جائزے سے مشروط ہوگی اور اسے یقینی آمدن نہیں سمجھا جاسکتا۔
کسٹمز حلقوں میں سوال اٹھایا جارہا ہے کہ مستقل اپریزرز تمام الاؤنسز سمیت تقریباً ایک لاکھ روپے ماہانہ حاصل کرتے ہیں، جبکہ کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے ایویلیوایٹرز کارکردگی کی بنیاد پر اس سے کہیں زیادہ رقم حاصل کرسکتے ہیں۔ اس فرق نے ملازمین کے درمیان مراعات کی تقسیم اور نئے نظام کے معیار پر بحث چھیڑ دی ہے۔
تقرری کی شرائط کے مطابق کنٹریکٹ ملازمین کو پنشن، گریجویٹی، مستقل ملازمت، ترقی، طبی سہولت، رہائش اور جنرل پراویڈنٹ فنڈ جیسی مراعات حاصل نہیں ہوں گی۔ ان کا کنٹریکٹ ایک سال کے لیے ہوگا اور اس کی توسیع بھی کارکردگی سے مشروط ہوگی۔
گڈز ایویلیوایٹرز درآمدی سامان کی مالیت، درجہ بندی اور کسٹمز دستاویزات کی جانچ سے متعلق امور انجام دیں گے۔ انہیں درآمد کنندگان، برآمد کنندگان اور کلیئرنگ ایجنٹس سے اسسمنٹ کے معاملات میں نظام سے باہر رابطہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ ان کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ بھی لیا جائے گا۔
کسٹمز حلقوں میں یہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ خصوصی آنریریم کی تقسیم کا طریقہ کتنا شفاف ہوگا، کارکردگی جانچنے کا اختیار کس کے پاس ہوگا اور اگر کسی اسسمنٹ میں بے ضابطگی سامنے آئی تو ذمہ داری کا تعین کیسے کیا جائے گا۔
دوسری جانب بعض افسران نے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ کنٹریکٹ ملازمین کے لیے بھاری مراعات کا نظام مؤثر نگرانی اور واضح احتساب کے بغیر مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے کسی مخصوص ملازم کی بدعنوانی یا کسی کمپنی کو غیر قانونی فائدہ پہنچانے کے الزام کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
ایف بی آر کا باضابطہ مؤقف سامنے آنے کے بعد بھرتیوں، تنخواہوں اور خصوصی مراعات سے متعلق سوالات کی مزید وضاحت ہوسکے گی۔
THE PUBLIC POST