کراچی،چوری شدہ اور چھینے گئے موبائل فونز کی آئی ایم ای آئی تبدیل کرنے والے 15ملزمان گرفتار

کراچی: ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے چوری شدہ اور چھینے گئے موبائل فونز کی خرید و فروخت اور آئی ایم ای آئی پیچنگ میں ملوث منظم نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 15 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
ترجمان ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر محمد عمران خان کے مطابق چار تھانوں کی حدود میں بیک وقت ٹارگٹڈ کارروائیاں کرتے ہوئے موبائل فونز کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب کر دیا۔

خواجہ اجمیر نگری، نیو کراچی، تیموریہ اور گلبہار پولیس کی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 15 ملزمان گرفتار کیے گئے۔ گرفتار ملزمان کے قبضے اور نشاندہی پر 435 موبائل فونز بشمول قیمتی آئی فونز برآمد کیے گئے۔

پولیس نے کارروائیوں کے دوران آئی ایم ای آئی پیچنگ میں استعمال ہونے والے 5 کمپیوٹرز اور 7 جدید لیپ ٹاپس بھی قبضے میں لے لیے۔

تھانہ خواجہ اجمیر نگری پولیس نے باڑا مارکیٹ میں کارروائی کرتے ہوئے 4 ملزمان، تھانہ نیو کراچی پولیس نے جیو موبائل مارکیٹ سے 4، تھانہ تیموریہ پولیس نے سرینہ موبائل مارکیٹ سے 3 ور تھانہ گلبہار پولیس نے 4 ملزمان گرفتار کیے۔

ترجمان کے مطابق برآمد شدہ موبائل فونز میں 37 آئی ایم ای آئی پیچ شدہ اور 09 چوری و چھینے گئے اینڈرائیڈ موبائل فونز بھی شامل ہیں۔

گرفتار ملزمان مبینہ طور پر جدید سافٹ ویئر اور کمپیوٹرز کے ذریعے موبائل فونز کی ڈیجیٹل شناخت تبدیل کرنے میں ملوث تھے۔ ملزمان نان پی ٹی اے اور اقساط کی عدم ادائیگی پر بلاک ہونے والے موبائل فونز کی بھی غیر قانونی پیچنگ کرتے تھے جبکہ ڈیجیٹل ٹیمپرنگ کے ذریعے چوری اور چھینے گئے موبائل فونز کی اصل شناخت چھپا کر مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا تھا۔

برآمد شدہ موبائل فونز کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے ذریعے اصل مالکان کا سراغ لگایا جا رہا ہے، اصل مالکان کی تصدیق اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد برآمد شدہ موبائل فونز ان کے حوالے کیے جائیں گے۔

ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر محمد عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس افسر نے بتایا کہ پولیس کو چوری اور چھینی جانے والے موبائل فون کی ٹریسنگ میں مشکلات کا سامنا تھا، گرفتار ملزمان کئی ماہ سے موبائل فون پیچنگ اور آئی ایم ای آئی تبدیل کرنے کا کام کر رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کی مختلف موبائل مارکیٹوں میں موبائل فون مرمت کی اپنی دکانیں ہیں جبکہ کچھ ملزمان اپنے گھروں پر کام کرتے ہیں۔

پولیس افسر نے کہا کہ وائٹ کالر اور ٹیکنیکل طریقے کا کام ہے، یہ اسنیچنگ سے زیادہ خطرناک کام ہے۔ گرفتار ملزمان کی تفصیلات این سی سی آئی سے بھی شیئر کی جائیں گی، ملزمان شہر سے باہر بھی موبائل فونز فروخت کرتے تھے۔

ایس ایس پی سینٹرل نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم کے حوالے سے حکومت سندھ اور پولیس افسران کی واضح ہدایت ہیں کہ اسٹریٹ کرمنلز کے خلاف کارروائی کی جائے۔ گرفتار ملزمان کے خلاف متعلقہ تھانوں میں مقدمات درج کرکے مزید قانونی کارروائی اور تفتیش شروع کردی گئی۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ضلع وسطی پولیس کی شاندار کارکردگی پر ڈی آئی جی ویسٹ، ایس ایس پی ڈاکٹر عمران خان اور ان کی ٹیم کو زبردست شاباش دی۔

Check Also

نیپال پریمیئر لیگ تنازع شدت اختیار کرگیا،7پاکستانی کرکٹرز واپس وطن آگئے

کراچی: نیپال پریمیئر لیگ تنازع شدت اختیار کرگیا، 8 میں سے 7 پاکستانی کرکٹرز واپس …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *