کراچی: شہر قائد سمیت صوبے بھر میں کتوں کی بڑھتی آبادی پولیو ورکز کے لیے بھی چیلنج بن گئی ہے، جہاں 58 ہزار سے زائد پولیو ورکرز آوارہ کتوں کے رحم و کرم پر ہیں۔
کراچی سمیت سندھ بھر میں کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی نے انسدادِ پولیو مہم میں مصروف فرنٹ لائن ورکرز کے لیے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ پولیو ورکرز کو ویکسین پلانے سے انکاری والدین اور ریفیوزل سے زیادہ گلیوں، محلوں اور تنگ راستوں میں موجود آوارہ کتوں سے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
گھر گھر جاکر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والے فرنٹ لائن ورکرز کو دورانِ ڈیوٹی اچانک کتوں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، متعدد ورکرز ماضی میں سگ گزیدگی کے واقعات میں زخمی بھی ہوچکے ہیں، جبکہ کتوں کے خوف کے باعث فیلڈ میں کام کرنا ان کے لیے ایک مستقل چیلنج بنتا جارہا ہے۔
فیلڈ میں موجود پولیو ورکرز کا کہنا ہے کہ صبح سویرے اپنی یونین کونسلز سے بچوں کو قطرے پلانے کے لیے نکلتے ہی انہیں مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم سب سے بڑا خطرہ گلیوں میں گھومنے والے آوارہ کتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پولیو مہم کے دوران انہیں گھر گھر پہنچنا ہوتا ہے اور اس مقصد کے لیے تنگ گلیوں، اندرونی محلوں اور ایسے علاقوں میں بھی جانا پڑتا ہے جہاں آوارہ کتوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔ بعض اوقات کتے اچانک حملہ آور ہوجاتے ہیں اور ورکرز کو بچوں کو قطرے پلانے کا عمل چھوڑ کر اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنا پڑتا ہے۔
پولیو ورکرز کے مطابق کئی مرتبہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات بھی پیش آچکے ہیں، جس کے باعث ورکرز زخمی بھی ہوئے ہیں۔پولیو ورکرز کے مطابق وہ پولیو ویکسین پلوانے سے انکاری والدین کو قائل کرنے سمیت پہلے ہی مختلف سماجی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا کررہے ہیں، لیکن اب آوارہ کتوں کی موجودگی نے ان کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال کر فرائض انجام دے رہے ہیں، اس کے باوجود ان کی حفاظت کے لیے مقامی سطح پر خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جارہے۔
ورکرز نے بتایا کہ آوارہ کتوں کے مسئلے پر متعدد مرتبہ متعلقہ ٹاؤن چیئرمینز اور مقامی انتظامیہ کو شکایات بھی کی گئی ہیں، تاہم انہیں کوئی مؤثر جواب نہیں دیا گیا۔ فیلڈ ورکرز کا کہنا ہے کہ شکایات پر اکثر انہیں بتایا جاتا ہے کہ آوارہ کتوں کو پکڑنے یا مارنے سے منع کیا گیا ہے، اس لیے متعلقہ عملہ کچھ نہیں کرسکتا۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ کتوں کو مارنے کا مطالبہ نہیں کررہے بلکہ چاہتے ہیں کہ متعلقہ بلدیاتی ادارے انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر اور قابلِ عمل حکمت عملی اختیار کریں، تاکہ پولیو ٹیمیں خوف کے بغیر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔
ورکرز کے مطابق انسدادِ پولیو مہم کے دوران ان کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی اہلکار تو تعینات کیے جاتے ہیں، لیکن گلیوں میں آوارہ کتوں کے حملوں سے بچاؤ کا کوئی مستقل انتظام موجود نہیں۔
اس معاملے پر پروجیکٹ ڈائریکٹر ایکسپینڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن (ای پی آئی) سندھ ڈاکٹر راج کمار نے پولیو ورکرز کو درپیش مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیلڈ میں فرنٹ لائن پولیو ورکرز کی ڈیوٹی انتہائی چیلنجنگ ہے اور انہیں روزانہ مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ای پی آئی سندھ اپنے پولیو ورکرز کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے، فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والے یہ کارکن قومی انسدادِ پولیو مہم کا اہم حصہ ہیں اور مشکل وقت میں ادارہ انہیں تنہا نہیں چھوڑتا۔ کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ہر ضلع میں ایمرجنسی سینٹرز موجود ہیں، جہاں متاثرہ پولیو ورکرز کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کا انتظام ہے۔
ڈاکٹر راج کمار کے مطابق پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کے لیے جدوجہد جاری رہے گی اور پولیو ورکرز کو ادارے کا تعاون ہمیشہ حاصل رہے گا۔
دوسری جانب کراچی سمیت سندھ بھر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی آبادی اور سگ گزیدگی کے واقعات پہلے ہی صحت عامہ کے لیے سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ گزشتہ روز کراچی کے جناح اسپتال میں ایک 12 سالہ بچہ ریبیز کے باعث انتقال کرگیا، جس کے بعد کتوں کے کاٹنے اور ریبیز سے ہونے والی اموات کا معاملہ ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
کراچی کے 3 بڑے سرکاری اسپتالوں میں رواں سال اب تک سگ گزیدگی کے 50 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جبکہ سندھ بھر میں ریبیز کے باعث اموات کی تعداد 41 تک پہنچ گئی ہے۔ سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات نہ صرف شہریوں بلکہ روزانہ فیلڈ میں کام کرنے والے پولیو ورکرز کے لیے بھی خطرے کی علامت ہیں۔
واضح رہے کہ سندھ بھر میں 2 سے 8 نومبر تک جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوران 20 اضلاع میں 68 لاکھ 83 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مہم کے تحت صوبے کی 1184 یونین کونسلز میں گھر گھر جاکر بچوں تک رسائی حاصل کی جارہی ہے، جس کے لیے 58 ہزار سے زائد تربیت یافتہ پولیو ورکرز خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لیے 19 ہزار 654 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
THE PUBLIC POST