اسلام آباد: وفاقی وزیر ریلوے نے سینیٹ میں پاکستان ریلوے کی آمدن اور کمرشل جائیدادوں سے متعلق تفصیلات پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ادارے کی 2,355 جائیدادوں پر ناجائز قبضہ ہے۔
وزیر کے مطابق گزشتہ تین برس میں ریلوے کے ریونیو میں نمایاں اضافہ ہوا، مالی سال 2021-22 میں فریٹ آپریشنز سے آمدن 23 ارب 12 کروڑ روپے تھی جو 2023-24 میں بڑھ کر 28 ارب 11 کروڑ روپے ہو گئی۔
اسی طرح پیسنجر آپریشنز کی مد میں آمدن تین برس میں 30 ارب روپے سے بڑھ کر 49 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ لیز پر دی گئی زمین سے گزشتہ چار برس میں 13 ارب روپے ریونیو حاصل ہوا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ 34 ہزار 763 کمرشل یونٹس میں سے 2,355 ناجائز قابضین کے زیر استعمال ہیں، کراچی میں 589، سکھر میں 1,538، کوئٹہ میں 123، ملتان میں 36، لاہور میں 24، پشاور میں 6 اور سی ایس ایف ڈائریکٹوریٹ میں 38 جائیدادوں پر غیر قانونی قبضہ ہے۔
مزید برآں، ان کا کہنا تھا کہ 34,763 کمرشل جائیدادوں کی تعمیر و مرمت پر گزشتہ پانچ برس میں 30 کروڑ 64 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔
THE PUBLIC POST