بی آر ٹی یلو لائن: ساڑھے 8 ارب کی مبینہ کرپشن کیس،ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت مسترد

بی آر ٹی یلو لائن میں ساڑھے 8 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کے کیس میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت مسترد کردی گئی۔

دوران سماعت اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم کو ضمانت دینے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ پراسکیوٹر کے اس بیان پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔

کراچی میں صوبائی اینٹی کرپشن کورٹ میں بی آر ٹی یلو لائن منصوبے میں مبینہ ساڑھے 8 ارب روپے کی کرپشن سے متعلق مقدمے میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواستِ ضمانت پر سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران سندھ حکومت کی جانب سے مقرر اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ضمیر عباسی نے منصوبے میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نیسپاک کی منظوری کے بغیر ادائیگیاں کیں اور مقررہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ مقدمے کی تفتیش ابھی جاری ہے اور اگر عدالت ملزم کو ضمانت دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو استغاثہ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

عدالت نے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ آیا اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ نے خود کوئی انکوائری کی تھی یا نہیں۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ اینٹی کرپشن نے الگ سے انکوائری نہیں کی بلکہ وزیراعلیٰ کی انسپیکشن ٹیم کی رپورٹ کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا۔

اس پر عدالت نے سی ایم آئی ٹی رپورٹ کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا اور استفسار کیا کہ آیا وزیراعلیٰ کی انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر اینٹی کرپشن ایف آئی آر درج کی جا سکتی ہے۔

سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ 1993 کے متعلقہ قواعد کے تحت وزیراعلیٰ کسی بھی معاملے کی انکوائری کا حکم دے سکتے ہیں۔

عدالت نے دورانِ سماعت اینٹی کرپشن کورٹ کے سرکاری وکیل کو بھی طلب کر لیا اور اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کے بعض جوابات پر برہمی کا اظہار کیا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ اسپیشل پراسیکیوٹر نے متعلقہ مجاز اتھارٹی کی تحریری منظوری پیش نہیں کی، اسپیشل پراسیکیوٹر کی رعایت کو قبول نہیں کیا جاسکتا، ریکارڈ پر موجود مواد، سی ایم آئی ٹی رپورٹ اور دستاویزی شواہد بادی النظر میں ملزم کو جرائم سے جوڑنے کے لیے کافی ہیں۔

عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ انکوائری رپورٹ کے مطابق ادائیگیاں نہ صرف معاہدے کی شرائط بلکہ مالیاتی قواعد اور پروکیورمنٹ طریقہ کار کے بھی خلاف تھیں، رپورٹ کے مطابق خلاف ضابطہ ادائیگیوں سے حکومت کو مالی نقصان اور نجی ٹھیکیداروں کو غیر قانونی فائدہ پہنچا، بادی النظر میں انکوائری سے اختیارات کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ بددیانتی ظاہر ہوتی ہے، بدعنوانی، عوامی فنڈز میں خردبرد جیسے جرائم عام جرائم سے مختلف نوعیت رکھتے ہیں۔

تحریری فیصلہ میں کہا گیا کہ ایسے مقدمات میں ضمانت کے وقت محتاط رویہ اختیار کرنا ضروری ہے، اربوں روپے کے عوامی فنڈز کے ذمہ دار افراد کو ضمانت دینا احتسابی عمل پر عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے، ضمانت سے بااثر سرکاری افسران کے اختیارات کے ناجائز استعمال کی صورت میں فوری نتائج سے بچ سکنے کا تاثر پیدا ہوگا۔

Check Also

مفتاح اسماعیل کراچی کی فکر چھوڑیں، پہلے اپنی ناکام معاشی پالیسیوں کا حساب دیں، سعدیہ جاوید

کراچی: ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے مفتاح اسماعیل کی پریس کانفرنس پر ردعمل میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *