میر رضا جوڈیشل کمیشن کی تیسری سماعت؛ڈاکٹر اُسامہ کو نوٹس، بزنس پارٹنر کا بیان قلمبند

کراچی میں جمعرات کو میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس انعقاد پذیر ہوا جس میں ان کے بزنس پارٹنر سے سوال و جواب کیے گئے۔

دورانِ اجلاس گزشتہ سماعت کے موقع پر ڈاکٹر اسامہ کے ساتھ آئے ہوئے افراد کی جانب سے صحافیوں کے ساتھ بدتمیزی کی شکایت جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال سے کی گئی۔ جس پر ایکشن لیتے ہوئے جسٹس عمر سیال نے ڈاکٹر اسامہ کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا اور کمیشن نے سات دنوں کے اندر اندر جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

اسی کے ساتھ کمیشن نے کارروائی آگے بڑھاتے ہوئے میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد کا بیان قلمبند کیا۔ کمیشن کے سامنے پیش ہو کر مقتول کے بزنس پارٹنر احمد نے اپنے اور میر رضا کے تعلقات پر روشنی ڈالی۔

جسٹس عمر سیال کے سوال کے جواب میں احمد نے بتایا کہ میں اور رضا پہلی کلاس سے ایک ساتھ تھے، اس کے بعد ہم نے کالج میں بھی ساتھ تعلیم حاصل کی اور پھر 2020 میں مل کر اپنا کاروبار شروع کیا۔

بزنس کی برانچوں کے بارے میں پوچھے جانے پر احمد نے بتایا کہ ہماری دو برانچیں تھیں اور ہمارا کاروبار الحمد اللہ بہت اچھا چل رہا تھا، ہم دونوں کاروبار سے پانچ پانچ ہزار روپے لیتے تھے۔

واقعے والے دن کے بارے میں بتاتے ہوئے احمد نے بیان دیا کہ 28 جولائی کو صبح آٹھ بجے ہم میر رضا کے گھر گئے تھے، جب ہم پہنچے تو وہاں موجود تمام لوگ سی سی ٹی وی کیمرے چیک کرنے میں مصروف تھے اور ہم بھی اسی میں شامل ہو گئے۔

انہوں نے بتایا کہ میر کے کمرے میں میرے ساتھ میرا بھائی، رازق، حیثم، مقتول کی بہن اور والدہ بھی موجود تھیں۔

احمد کا کہنا تھا کہ میر ہمیشہ اپنے گھر کی چابی ساتھ لے کر جاتا تھا تاکہ والدہ کو کوئی پریشانی نہ ہو، لیکن اس دن اس کا سارا سامان گھر میں ہی موجود تھا اور سگریٹ کے پیکٹ میں چرس بھی رکھی ہوئی تھی۔

کمیشن کی جانب سے جب سوال کیا گیا کہ آپ یہ کیوں بتانا چاہتے ہیں کہ سگریٹ کے پیکٹ میں کیا تھا اور کیا آپ بھی سگریٹ پیتے ہیں، تو احمد نے جواب دیا کہ میں سگریٹ نہیں پیتا اور میں یہاں خود کو کلیئر کرنے آیا ہوں اس لیے یہ بات بتا رہا ہوں۔

کمیشن کے اس سوال پر کہ کیا آپ نے کمرے کا گدا اٹھا کر تلاشی لینا مناسب نہیں سمجھا؟ احمد کا کہنا تھا کہ میں نے تو والدہ سے کمرہ دیکھنے کی درخواست کی تھی کیونکہ میرا اور میر کا تعلق بہت گہرا تھا۔ ب

زنس دستاویزات کے متعلق احمد نے بتایا کہ 2023 تک سیل ڈیڈ رضا کے پاس تھی لیکن 2024 میں ایس آر بی کے نوٹس کے بعد سے سیل ڈیڈ میرے پاس ہی تھی۔

ایپل واچ اور اس سے ملنے والے نوٹس کے بارے میں احمد نے وضاحت کی کہ میں نے کمرے میں گھڑی دیکھی تھی اور پھر ہم نیچے آ گئے۔ بعد میں علیشبہ نے اسے چارج پر لگایا اور کھول کر بتایا کہ اس میں کچھ نوٹس ملے ہیں۔

احمد نے کہا کہ میں نے علیشبہ کو خود کال نہیں کی تھی اور نہ ہی گھڑی کھولنے کو کہا تھا، بلکہ رازق نے بات کی تھی اور کہا تھا کہ واچ کھولو شاید کچھ مل جائے۔ میں اس وقت اپنے دوست کو لینے چلا گیا تھا اور جب واپس آیا تو بھائی نے بتایا کہ علیشبہ نے ایپل واچ سے نوٹس ملنے کا بتایا ہے۔

کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے مقتول کے بزنس پارٹنر احمد نے بتایا کہ گزشتہ برس میر رضا کے خاندان کے مالی مسائل کا آغاز ہوا تھا۔

احمد نے بتایا کہ میر رضا نے مجھے بتایا تھا کہ ان کے والد نے کوئی سامان کا کنٹینر منگوایا تھا جو غائب ہو گیا، جس کی وجہ سے ان کے گھر والے شدید پریشانی کا شکار ہوئے، حتیٰ کہ حالات اتنے خراب ہوئے کہ ان کی والدہ کو اپنی جیولری بھی بیچنا پڑی۔

احمد کا مزید کہنا تھا کہ میر رضا نے بتایا کہ والد کے قرضے کی وجہ سے لوگ انہیں تنگ کر رہے تھے اور رقم کی واپسی کے لیے گھر تک پہنچ رہے تھے۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ میر رضا نے حسن سوریا کے ذریعے نور خان نامی شخص کو پولیس سے بھی کال کروائی تھی۔

سماعت کے دوران کمیشن کی جانب سے ان کے کاروباری ادارے ’وافلکس‘ کے شراکت داروں سے متعلق تفتیش کی گئی۔

کمیشن کے سوال پر احمد نے بتایا کہ ہمارے علاوہ اس کاروبار میں آصف اور عابد بھی پارٹنر تھے۔

تاہم جب کمیشن نے دفتری دستاویزات کا معائنہ کیا تو انکشاف ہوا کہ ان میں محمد احسان انیس شمسی کا نام بھی بطور شراکت دار درج ہے۔

اس پر کمیشن کے سربراہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ ہم سے جھوٹ کیوں بول رہے ہیں، کیونکہ سرکاری دستاویز کے مطابق احسان شمسی اس کاروبار کے تیس فیصد کے مالک ہیں۔

اس پر احمد نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ میر رضا نے کچھ وقت پہلے احسان کے بارے میں بطور انویسٹر بتایا تھا اور احسان نے پینتالیس لاکھ روپے کیش رقم دی تھی۔

کمیشن نے جب احمد سے استفسار کیا کہ وہ پینتالیس لاکھ روپے کہاں گئے? تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ تمام رقم میر رضا اپنے گھر لے گیا تھا۔

اس پر جوڈیشل کمیشن نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کو فوڈ پانڈا کے چھ لاکھ روپے کی اتنی فکر تھی، جبکہ پینتالیس لاکھ روپے جیسی بڑی رقم میر رضا اپنے گھر لے گیا اور آپ نے کچھ بھی نہیں کیا۔

Check Also

خوشبو سے طلاق نہیں ہوئی، الگ رہ رہے ہیں: اداکار ارباز خان

پاکستانی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار ارباز خان نے اپنی اہلیہ اور فلمی اداکارہ خوشبو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *