سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے خیبرپختونخوا کے شہر کوہاٹ اور طورخم بارڈر سے ملحقہ علاقوں میں افغان طالبان حکومت کی جانب سے بھیجے گئے 8 ڈرونز مار گرائے۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ آج صبح افغان طالبان رجیم کی جانب سے 8 ڈرونز پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوئے، جنہیں افواج پاکستان کے فعال اور مستعد ائیر ڈیفنس سسٹم نے کامیابی سے گرادیے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افواج پاکستان اور پاک فضائیہ کے شاہینوں نےافغان طالبان رجیم کی عوامی مقامات کو نشانہ بنانے کی بزدلانہ کوشش کو پیشہ ورانہ طریقے سے ناکام بنا دیا۔
سکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ 4 ڈرونز طورخم بارڈ سے ملحقہ علاقوں اور 4 ڈرونز کوہاٹ سے متصل بارڈ کے پہاڑی علاقوں میں گرائے گئے تھے، یہ دراندازی افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گردوں کی براہ راست معاونت اور سرپرستی کا مزید ایک اور ثبوت ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ رات افواج پاکستان نے کرم سیکٹر میں افغان طالبان رجیم کے متعدد مورچوں اور ٹھکانوں کو اشتعال انگیز فائرنگ کےجواب میں تباہ بھی کیا تھا، افواج پاکستان ہمہ وقت پاکستان اور عوام کے دفاع کے لیے تیار ہے۔
وزارت اطلاعات بتایا تھا کہ ان فضائی حملوں میں 28 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔ وزارت نے اس وقت کہا تھا کہ افغانستان کا مسلسل دہشتگردی کا مرکز بنے رہنا باعث تشویش ہے اور پاکستان کو درپیش دہشتگردی کا خطرہ افغانستان سے لاحق ہے۔
یہ فضائی حملے خیبرپختونخوا کے کوہاٹ میں اولڈ پولیس لائنز پر بڑے دہشت گرد حملے کے بعد کیے گئے تھے، جس میں 23 افراد شہی اور تقریباً 100 زخمی ہوئے تھے۔
علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے رات بھر جاری رہنے والے کلیئرنس آپریشن میں 8 دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔
اس سے قبل جولائی میں افغان طالبان حکومت نے بلوچستان کی جانب سرحد پار چار ابتدائی نوعیت کے ڈرونز بھیجے تھے جنہیں سیکیورٹی فورسز نے مار گرایا تھا۔
جون میں بھی قلعہ عبداللہ اور چاغی کے اضلاع میں دو ڈرونز مار گرائے گئے تھے۔
پاکستان میں 2021 میں کابل میں افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے دہشت گردی کے واقعات میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
THE PUBLIC POST