مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث قطر سے منگوائی گئی ایل این جی کا جہاز راستے سے ہی واپس مڑ گیا ہے۔ جس کے بعد حکومت پاکستان نے نئے ایل این جی امپورٹ کا ہنگامی ٹینڈر جاری کیا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ’بلومبرگ‘ کے مطابق، وفاقی حکومت نے 15 اور 16 جولائی کو مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کا ایک ہنگامی ٹینڈر جاری کیا ہے. یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب قطر سے پاکستان آنے والا ایل این جی کا ایک بڑا جہاز آبنائے ہرمز کے سمندری راستے میں اچانک شروع ہونے والی لڑائی کی وجہ سے بیچ راستے سے ہی واپس مڑ گیا.
حکومتی منظوری کے بعد سرکاری کمپنی ’پاکستان ایل این جی‘ نے بدھ کے روز یہ ہنگامی ٹینڈر جاری کیا ہے تاکہ ملک میں گیس کی کمی نہ ہو.
بلومبرگ کے مطابق، امریکا کی طرف سے ایران پر دوسرے دن بھی کیے جانے والے حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کے سمندری راستے سے جہازوں کی آمد و رفت بالکل رک گئی ہے.
ایران نے اس سے پہلے سمندر میں گیس لے جانے والے ایک بڑے ٹینکر سمیت کئی جہازوں پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں امریکا نے یہ کارروائی کی. اسی وجہ سے قطر کا گیس سے بھرا جہاز پاکستان پہنچنے سے پہلے ہی راستے سے واپس مڑنے پر مجبور ہو گیا.
رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے اس ہفتے کے شروع میں بھی ’ٹوٹل انرجی‘ نامی کمپنی سے ساڑھے 17 ڈالر فی یونٹ کی مہنگی قیمت پر گیس کا ایک جہاز خریدا تھا جو 10 اور 11 جولائی کو پاکستان پہنچنا ہے.
واضح رہے کہ پاکستان اپنی ضرورت کی تقریباً تمام گیس قطر سے طے شدہ طویل المدتی معاہدوں کے تحت خریدتا ہے، لیکن فروری کے آخر میں مشرقِ وسطیٰ میں شروع ہونے والی امریکا ایران جنگ نے پاکستان کے لیے گیس کا بحران پیدا کر دیا ہے کیونکہ قطر کی گیس خلیج فارس میں پھنس کر رہ گئی ہے.
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کو گیس کی قلت سے بچنے کے لیے پچھلے چند ہفتوں میں دو بار مہنگی عالمی مارکیٹ سے گیس خریدنی پڑی ہے.
بلومبرگ کے مطابق، حکومتی عہدیداروں نے اس صورتحال پر بات کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک میں ایندھن کا ذخیرہ پورا رکھنا ہماری سب سے پہلی ترجیح ہے.
اس بحران سے نمٹنے کے لیے قائم کیے گئے نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل نے بھی ایندھن کے بازار پر نظر رکھی ہوئی ہے تاکہ وقت پر فیصلے کیے جا سکیں.
پاکستان کے لیے گیس کا یہ مسئلہ اس وقت سے زیادہ سنگین ہوا ہے جب مارچ میں قطر کی ’راس لفان‘ گیس فیکٹری پر حملوں کی خبریں آئی تھیں اور قطر نے گیس دینے میں مجبوری کا اظہار کیا تھا.
رپورٹ کے مطابق، اب پاکستان اپنے ملک میں گیس کی حفاظت اور سستی قیمت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستے اور طریقے تلاش کر رہا ہے.
THE PUBLIC POST