اسلام آباد:قومی احتساب بیورو (نیب) نے اپنے دائرۂ اختیار کیلئے مقررہ 500؍ ملین روپے کی قانونی حد اور واجبات کی مہنگائی کے تناسب سے ایڈجسٹ شدہ مالیت کے درمیان واضح قانونی امتیاز قائم کرتے ہوئے اندرونی طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ مہنگائی کو بنیاد بنا کر ماضی کے چھوٹے مالیت والے کرپشن کیسز کو پرانی تاریخوں میں (Retrospectively) نیب کے دائرۂ اختیار میں نہیں لایا جا سکتا۔
یہ مؤقف 5؍ مارچ کو قومی احتساب (ترمیمی) ایکٹ 2026ء کے نفاذ کے بعد پراسیکیوٹرز اور تفتیش کاروں کیلئے جاری کردہ نیب کے ایک نوٹ میں واضح کیا گیا ہے۔ نیب نے پانچ سو ملین روپے کی ترمیم شدہ مالی حد کے اطلاق کا تعین کرنے کیلئے تین الگ الگ صورتیں مقرر کی ہیں، جن کا انحصار اس امر پر ہے کہ مبینہ جرم کب سرزد ہوا۔
ذرائع نے بتایا کہ نیب چیئرمین کی ہدایت پر ڈپٹی چیئرمین اور نیب پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کیے گئے اس نوٹ میں پرنسپل جنرل اٹارنیز، ڈپٹی پراسیکیوٹرز جنرل اور نیب ہیڈکوارٹرز سمیت تمام علاقائی دفاتر کے پراسیکیوٹرز سے مشاورت کی گئی۔
اس کا بنیادی مقصد ایک یکساں قانونی مؤقف وضع کرنا ہے تاکہ بیورو کے مقدمات عدالتوں میں جانے یا عدالتوں میں چیلنج کیے جانے سے قبل قانونی پوزیشن واضح ہو۔ قومی احتساب آرڈیننس 1999ء کی شق 5 (او) میں 2026ء کی گئی ترمیم کے تحت قابل تعزیر جرم کی تعریف ایسی بدعنوانی یا ایسے طرز عمل کے طور پر کی گئی ہے جس میں کم از کم پانچ سو ملین روپے کا معاملہ شامل ہوں۔
اس میں قرار دیا گیا ہے کہ اس مالی حد میں محکمہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اشاریوں کی بنیاد پر سالانہ مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے گا، جس کا اطلاق یکم جولائی 2026ء سے ہوگا۔ تاہم، نیب کی داخلی تشریح کے مطابق پانچ سو ملین روپے کی رقم ہی دائرۂ اختیار کی بنیادی حد برقرار رہے گی۔
مہنگائی کے تناسب سے کی جانے والی ایڈجسٹمنٹ خود اس قانونی حد کو تبدیل نہیں کرتی۔ اس کے بجائے، جولائی 2026ء کے بعد کے قانونی فریم ورک میں آنے والے مقدمات میں اصل واجب الادا رقم کے تعین کے بعد ایڈجسٹ شدہ رقم کا حساب لگایا جائے گا۔ یہ امتیاز بالخصوص جولائی 2022ء سے قبل شروع ہونے والے مقدمات کیلئے اہم ہے۔
اندرونی رہنمائی (انٹرنل گائیڈنس) میں بیان کردہ پہلی صورت کے تحت، اس تاریخ سے قبل سرزد ہونے والے جرم میں شامل اصل رقم کا تعین اسی سال کے حساب سے کیا جائے گا جس سال جرم سرزد ہوا، اور اس میں مہنگائی کے تناسب سے کوئی ایڈجسٹمنٹ نہیں کی جائے گی۔
اگر حتمی واجب الادا رقم پانچ سو ملین روپے یا اس سے زیادہ ہو تو نیب کا دائرۂ اختیار برقرار رہے گا، جبکہ پانچ سو ملین روپے سے کم ہونے کی صورت میں معاملہ نیب کے دائرۂ اختیار سے باہر ہو جائے گا اور عام عدالتوں کو منتقل ہو جائے گا۔
جولائی 2022ء کے بعد سرزد ہونے والے جرائم کیلئے دوسری صورت کا اطلاق ہوگا۔ نیب کا دائرۂ اختیار ابتدائی طور پر پانچ سو ملین روپے کی مقررہ حد پر قائم ہوگا۔ تاہم، انکوائری یا تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اگر اصل واجب الادا رقم پانچ سو ملین روپے یا اس سے زیادہ پائی جائے تو جس سال مقدمہ حتمی شکل اختیار کرے گا، اس سال کے مہنگائی کے اشاریے کا اطلاق کیا جائے گا۔
چنانچہ حتمی ریفرنس میں اصل رقم کے ساتھ مہنگائی کے تناسب سے ایڈجسٹ شدہ رقم بھی شامل ہوگی۔ اگر اصل واجب الادا رقم خود پانچ سو ملین روپے سے کم ہو تو مہنگائی کے تناسب سے کوئی ایڈجسٹمنٹ نہیں کی جائے گی اور نیب کا دائرۂ اختیار ختم ہو جائے گا۔ تیسری صورت ان مسلسل جرائم سے متعلق ہے جو جولائی 2022ء سے قبل شروع ہوئے لیکن اس کے بعد بھی جاری رہے۔ ایسے مقدمات کو جولائی 2022ء کے بعد سرزد ہونے والے جرائم کی طرح ہی تصور کیا جائے گا۔
پانچ سو ملین روپے کی حد دائرۂ اختیار کا معیار رہے گی جبکہ مہنگائی کے تناسب سے ایڈجسٹمنٹ صرف واجب الادا رقم کے حتمی تعین کے بعد کی جائے گی۔ رہنمائی میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ ایک مرتبہ اصل واجب الادا رقم حتمی طور پر متعین ہونے اور مہنگائی کے تناسب سے ایڈجسٹ شدہ رقم کا حساب لگائے جانے کے بعد یہ رقم حتمی تصور ہوگی اور مہنگائی کے اشاریے میں بعد کے سالانہ اضافے کے ساتھ اس میں مزید تبدیلی نہیں ہوگی۔
یہ قانونی تشریح ترمیم کے ساتھ منسلک اغراض و وجوہ کے بیان پر مبنی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مالی حد کو مہنگائی سے منسلک کرنے کا مقصد وقت گزرنے کے ساتھ اسے ’’حقیقت پسندانہ اور متعلقہ‘‘ رکھنا ہے تاکہ مہنگائی اس کی قدر کو کم نہ کر دے۔
نیب کے نوٹ میں خصوصی طور پر واضح کیا گیا ہے کہ ترمیم کا مقصد ملزمان کو فائدہ پہنچانا تھا اور نہ ہی کسی اور طریقے سے بیورو کے دائرۂ اختیار کو محدود کرنا۔ داخلی رہنمائی (انٹرنل گائیڈنس) میں 2026ء کے قانون کے ذریعے کی گئی ایک اور اہم تبدیلی کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ شق 4 (6)(اے) میں ترمیم کے ذریعے نیب کے دائرۂ اختیار سے باہر ہونے والے معاملات کی منتقلی سے متعلق شق کا دائرہ زیر التواء اپیلوں تک بھی بڑھا دیا گیا ہے، جو اس سے قبل انکوائریز، تحقیقات اور ٹرائلز تک محدود تھا۔
THE PUBLIC POST