لانگ مارچ اور کنٹینر ضبط ہونے کا خوف،ڈرائیورز کہیں جانے سے انکاری، کراچی پورٹ پر کارگو جمع

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کو روکنے کے لیے حکومتی اقدامات کے اثرات ملک کی مرکزی بندرگاہ کراچی تک پہنچ گئے ہیں، جہاں مال بردار کنٹینرز کی بڑی تعداد جمع ہوگئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرک ڈرائیوروں نے اس خدشے کے پیش نظر شمالی علاقوں کی جانب سامان لے جانے سے گریز شروع کردیا ہے کہ پولیس ان کی گاڑیاں قبضے میں لے کر کنٹینرز اسلام آباد جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔

35 سالہ ڈرائیور جاوید الرحمٰن نے کہا کہ “اس وقت پنجاب کی طرف جانا خودکشی کے مترادف ہے”۔ ان کے بقول پولیس گاڑیاں اور کنٹینرز قبضے میں لے کر ڈرائیورز کو پریشان حال چھوڑ دیتی ہے۔

کئی ہفتوں سے راستوں پر کنٹینرز موجود
اسلام آباد کی جانب آنے والے راستوں پر کئی ہفتوں سے ریت سے بھرے اور آپس میں ویلڈ کیے گئے اسٹیل کنٹینرز رکھے ہوئے ہیں۔

یہ انتظام سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر پی ٹی آئی کے مجوزہ مارچ کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، تاہم بعد میں اسے 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا۔

تاہم وزارت اطلاعات و نشریات نے اسلام آباد میں سڑکوں کی بندش سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں بعض مقامات پر کنٹینرز سڑکیں بند کرنے کے لیے نہیں بلکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات کے تحت احتیاطی تدبیر کے طور پر رکھے گئے ہیں۔

عمران خان کو 2023 میں پارلیمان کے ذریعے حکومت سے ہٹائے جانے کے بعد جیل بھیجا گیا تھا۔ ان کے خلاف بیشتر سزائیں معطل یا کالعدم ہوچکی ہیں، جبکہ اپیلیں زیر التوا ہیں۔

رائٹرز کے مطابق پی ٹی آئی اب بھی ریاستی نگرانی اور دباؤ کا سامنا کررہی ہے، جس کے باعث حالیہ احتجاجی سرگرمیوں میں شرکت متاثر ہوئی ہے۔

Check Also

حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات کا اگلا دور آج ہوگا، حتمی فیصلے متوقع

اسلام آباد: حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور آج دوپہر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *