ایف بی آر میں کانٹریکٹ بھرتیوں کا تنازع ،اصلاحات کے نام پر 5ارب ڈالر کے قرضے!

رپورٹ : عمران خان

ایف بی آر میں اصلاحات کے نام پر اربوں ڈالر کے قرضے لینے کے باوجود ٹیکس وصولیوں میں خاطرخواہ بہتری نہ آنے پر ادارے کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ دوسری جانب آئی بی اے کے ذریعے کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے ملازمین کو کسٹمز افسران کے اختیارات دینے کے معاملے نے نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کے سب انسپکٹرز اور سینٹرلائزڈ اسسمنٹ یونٹس کے گڈز ایویلوئیٹرز کی بھرتیوں اور اختیارات پر تحفظات سامنے آئے ہیں۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے روایتی طریقہ کار کے بجائے کنٹریکٹ ملازمین کو اہم ذمہ داریاں کیوں سونپی جا رہی ہیں، جبکہ ان کی تنخواہیں تقریباً دو لاکھ روپے ماہانہ بتائی جاتی ہیں۔

دوسری جانب اصلاحات کے نام پر ایشیائی ترقیاتی بینک سے مزید 200 ملین ڈالر، یعنی تقریباً 57 ارب روپے کے قرضے کی منظوری کی اطلاعات ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ٹیکس نظام کی جدیدکاری کے لیے مجموعی قرضوں کا حجم پانچ ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جس میں 81 ملین ڈالر کنسلٹنسی اور 10 ملین ڈالر پروجیکٹ مینجمنٹ کے لیے مختص ہیں۔ اس کے باوجود ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریباً 10.3 فیصد رہنے پر اصلاحاتی منصوبوں کی افادیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ادھر ان لینڈ ریونیو آفیسرز ایسوسی ایشن کی پین ڈاؤن ہڑتال کی کال واپس لیے جانے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیکس اصلاحات کے خلاف مزاحمت برداشت نہ کرنے اور کارکردگی نہ دکھانے والے افسران کے خلاف کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق غیر مجاز پریس ریلیز اور ہڑتال کی کال کے معاملے پر دو سینئر افسران کو بھی معطل کیا گیا ہے۔

ایف بی آر نے نیشنل فیس لیس سینٹر کے ذریعے تین سے چار لاکھ افراد کے آڈٹ کا عمل شروع کرنے کی اطلاعات بھی دی ہیں، تاہم بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: اربوں ڈالر کے قرضے، بھاری کنسلٹنسی اخراجات اور نئے ڈیجیٹل نظام کے باوجود ٹیکس وصولیوں میں مطلوبہ بہتری کیوں نہیں آ رہی؟ اصلاحات کی کامیابی کا فیصلہ دعووں سے نہیں، قومی خزانے میں اضافے اور ٹیکس چوری کی روک تھام سے ہوگا۔

Check Also

کسٹمز ڈرائی پورٹ پر اربوں کا بڑا فراڈ،جعلی پے آرڈرز کا اسکینڈل بے نقاب!

رپورٹ : عمران خان پشاور میں اضاخیل ڈرائی پورٹ پر فیصل بینک کے نام پر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *