رپورٹ : عمران خان
ایف بی آر افسران کی جبری ریٹائرمنٹ کی تیاری زیر غورآگئی، انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر کارروائی کی تجویز،آئی بی، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کی رپورٹس کو بنیاد بنانے کی بات، سرکاری منظوری اور قانونی حیثیت کی تصدیق ضروری،ٹیکس افسران میں تشویش کا خدشہ، اصلاحات کے نام پر احتساب اور اختیارات کے استعمال پر بحث کا آغاز
تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اصلاحات کے حوالے سے ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز افسران کی جبری ریٹائرمنٹ سے متعلق ایک مجوزہ اقدام زیرِ بحث آنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایسی تجویز پر غور کیا جارہا ہے جس کے تحت بعض افسران کے خلاف انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر جبری ریٹائرمنٹ کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مجوزہ طریقہ کار میں انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلی جنس کی رپورٹس کو بھی اہمیت دینے کی بات کی جارہی ہے۔ تاہم اس تجویز کی حتمی منظوری، موجودہ قانونی حیثیت اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
ایف بی آر میں بدعنوانی کی روک تھام، ٹیکس چوری کے خاتمے اور افسران کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، تاہم یہ سوال اہم ہے کہ اگر جبری ریٹائرمنٹ کا فیصلہ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر کیا جاتا ہے تو متعلقہ افسر کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور الزامات کا جواب دینے کا کتنا موقع ملے گا۔
سرکاری ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی میں شفاف طریقہ کار، قابلِ اطلاق قوانین اور منصفانہ سماعت کی اہمیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لیے مجوزہ اقدام کے بارے میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ کیا کارروائی سے پہلے الزامات کی باقاعدہ جانچ ہوگی، متعلقہ افسر کو صفائی کا موقع دیا جائے گا اور فیصلے کے خلاف اپیل یا نظرثانی کا حق حاصل ہوگا۔
ایف بی آر میں جبری ریٹائرمنٹ کی تجویز سے متعلق اطلاعات نے ادارے کے احتسابی نظام اور افسران کے تحفظات پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ اگر ایسی پالیسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کے قواعد، دائرۂ اختیار اور نگرانی کا نظام واضح کرنا ضروری ہوگا تاکہ بدعنوانی کے خلاف کارروائی بھی مؤثر رہے اور کسی افسر کے خلاف غیر مصدقہ معلومات کی بنیاد پر ناانصافی کا امکان بھی کم ہو۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی نجکاری سے متعلق منصوبہ بھی مؤخر ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم اس معاملے کی سرکاری تصدیق اور موجودہ صورتِ حال واضح ہونا باقی ہے
THE PUBLIC POST