رپورٹ: عمران خان
کراچی: کسٹمز کلیئرنس کی پیچیدگیاں اور تاخیر، اوورسیز پاکستانیوں کے سامان کی ترسیل چھ گنا مہنگی ہونے کا انکشاف،تین لاکھ کا کنٹینر 18 لاکھ روپے تک جا پہنچا،بندرگاہوں پر کنٹینرز رکنے سے ڈیمریج اور ڈیٹینشن چارجز بڑھنے لگے،ماہانہ بیگیج کی سینکڑوں کنٹینرز کلئیرنس کے انتظار میں پھنسے رہتے ہیں جس کی وجہ سے اوورسیز پاکستانیوں کا سامان رل جاتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے اپنے اہلِ خانہ کے لیے بھیجے جانے والے گھریلو سامان، تحائف اور دیگر اشیاء کی ترسیل شدید مہنگی ہوگئی ہے۔ شپنگ کرایوں میں غیر معمولی اضافے کے ساتھ کسٹمز کلیئرنس کے پیچیدہ مراحل، دستاویزات کی جانچ پڑتال اور بندرگاہوں پر سامان کی رہائی میں تاخیر نے بھی اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق کنٹینر کے کرایوں میں 600 فیصد تک اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں اور جس کنٹینر کا کرایہ پہلے تقریباً دو سے تین لاکھ روپے تھا، وہ بڑھ کر 18 لاکھ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے علاوہ کسٹمز کلیئرنس میں تاخیر کے باعث ڈیمریج، ڈیٹینشن اور دیگر اضافی چارجز بھی وصول کیے جا رہے ہیں، جن کا حتمی بوجھ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور ان کے خاندانوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
ذرائع کے مطابق بیرونِ ملک سے پاکستان آنے والے گھریلو سامان کے کنٹینرز کو بندرگاہ پر پہنچنے کے بعد مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ دستاویزات کی جانچ، کسٹمز کارروائی، سامان کی جانچ پڑتال اور کلیئرنس کے دیگر مراحل میں تاخیر ہونے سے کنٹینر بندرگاہ پر کھڑا رہتا ہے۔ مقررہ مدت میں سامان کی کلیئرنس نہ ہونے پر شپنگ کمپنیوں کی جانب سے ڈیمریج اور ڈیٹینشن چارجز عائد کیے جاتے ہیں، جو روز بروز بڑھتے رہتے ہیں۔ یوں بعض اوقات اصل شپنگ کرایے کے علاوہ اضافی اخراجات بھی ہزاروں اور لاکھوں روپے تک پہنچ جاتے ہیں۔
کسٹمز کے تحت کلیئرنس کے عمل میں پیچیدگیوں کا سب سے زیادہ اثر ان پاکستانی خاندانوں پر پڑ رہا ہے جو بیرونِ ملک سے ذاتی استعمال کا سامان، کپڑے، جوتے، الیکٹرانکس، گھریلو اشیاء، بچوں کے کھلونے اور دیگر تحائف منگواتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سامان کی دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود مختلف مراحل میں کارروائی مکمل ہونے تک انتظار کرنا پڑتا ہے، جبکہ کسی دستاویز پر اعتراض یا مزید جانچ کی ضرورت پیدا ہونے سے کلیئرنس کا عمل مزید طویل ہوسکتا ہے۔ اس دوران کنٹینر کی بندرگاہ پر موجودگی کے اخراجات مسلسل بڑھتے رہتے ہیں۔
شپنگ اور کارگو کے شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق ایک کنٹینر میں عموماً 200 سے 300 افراد کا سامان موجود ہوتا ہے۔ اس لیے اگر کسٹمز کلیئرنس یا دیگر کارروائیوں کے باعث ایک کنٹینر کئی روز تک بندرگاہ پر رکا رہے تو اس سے متاثر ہونے والے خاندانوں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے۔ کنٹینر کی تاخیر کے نتیجے میں عائد ہونے والے اضافی اخراجات بالآخر سامان کے مالکان سے وصول کیے جاتے ہیں، جس سے ہر خاندان کے حصے میں آنے والے سامان کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شپنگ کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے کرایوں اور کسٹمز کلیئرنس کی تاخیر نے ایک ایسا مالی بوجھ پیدا کردیا ہے جس میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانی دو طرفہ مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک جانب انہیں زیادہ شپنگ کرایہ ادا کرنا پڑ رہا ہے تو دوسری جانب بندرگاہ پر سامان رکنے کی صورت میں ڈیمریج اور ڈیٹینشن کے اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ بعض معاملات میں کنٹینر کی کلیئرنس اور سامان کی حوالگی میں تاخیر کے باعث مجموعی لاگت اصل تخمینے سے کہیں زیادہ ہوجاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور خطے کی صورتحال کے باعث شپنگ کے اخراجات میں اضافے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، تاہم اس اضافے کے ساتھ کسٹمز کلیئرنس کے نظام میں موجود پیچیدگیوں اور تاخیر کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سامان پاکستان پہنچ چکا ہو تو اسے بروقت کلیئر کرکے متعلقہ خاندانوں تک پہنچانے میں رکاوٹیں کیوں پیدا ہوتی ہیں اور ان تاخیر کے باعث وصول کیے جانے والے اضافی اخراجات کا ذمہ دار کون ہے؟
شپنگ اور کارگو کے شعبے سے وابستہ افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ ایف بی آر اور کسٹمز حکام بیرونِ ملک سے آنے والے ذاتی و گھریلو سامان کی کلیئرنس کے طریقہ کار کا ازسرِنو جائزہ لیں۔ دستاویزات کی جانچ اور ضروری کارروائی کے لیے واضح مدت مقرر کی جائے، غیر ضروری تاخیر ختم کی جائے اور ایسے کنٹینرز کو ترجیحی بنیادوں پر کلیئر کیا جائے جن میں عام خاندانوں کا ذاتی سامان موجود ہو۔ اس کے ساتھ شپنگ کمپنیوں کی جانب سے وصول کیے جانے والے کرایوں، ڈیمریج اور ڈیٹینشن چارجز کی تفصیلات بھی سامنے لائی جائیں تاکہ اضافی اخراجات کے نام پر شہریوں پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ ڈالا جاسکے۔
اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے اپنے خاندانوں کے لیے بھیجا جانے والا سامان محض تجارتی درآمدات نہیں بلکہ ان کی محنت کی کمائی سے خریدی گئی ذاتی اشیاء اور تحائف ہوتے ہیں۔ ایسے میں شپنگ کے مہنگے کرایوں کے ساتھ کسٹمز کلیئرنس میں غیر ضروری تاخیر اور اضافی چارجز کا بوجھ ان خاندانوں کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے کلیئرنس کے عمل کو آسان، شفاف اور مقررہ وقت میں مکمل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنے خاندانوں کے لیے سامان بھجوانے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
THE PUBLIC POST