12 لاکھ نان فائلرتاجروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ موخر

اسلام آباد: حکومت نے نئے فکسڈ ٹیکس اسکیم میں شامل نہ ہونے والے تقریباً 12 لاکھ نان فائلر دکانداروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ موخر کر دیا جبکہ انھیں مزید 3ماہ کی مہلت دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹیکس حکام نے رواں ہفتے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے سامنے دو تجاویز پیش کی ہیں۔

پہلی تجویز کے تحت تاجروں کو 31 جنوری 2027 تک مہلت دی جائے گی، تاہم تاخیر سے گوشوارے جمع کرانے پر زیادہ سے زیادہ 85 ہزار روپے سرچارج ادا کرنا ہوگا، جو معمول کے ٹیکس نظام کے تحت عائد جرمانے سے 90 ہزار روپے کم ہے۔

دوسری تجویز کے تحت تاجروں کے خلاف معمول کے انکم ٹیکس قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک لاکھ 75 ہزار روپے جرمانہ، ٹیکس آڈٹ اور اثاثوں کی مکمل تفصیلات ظاہر کرنا ہوں گی۔

وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا ہے کہ حکومت کسی بھی کارروائی سے قبل اٹارنی جنرل سے قانونی رائے لے گی، تاہم اسکیم میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔

حکومت نے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرائی تھی، جس کے تحت دکانداروں کو مجموعی فروخت پر صرف ایک فیصد ٹیکس ادا کرنا تھا، جبکہ انھیں آڈٹ سے استثنیٰ اور نقد لین دین کی اجازت بھی دی گئی تھی۔

حکومت کو توقع تھی کہ 38 لاکھ نان فائلر تاجروں میں سے کم از کم 10 لاکھ اس اسکیم میں شامل ہوں گے اور 50 ارب روپے ٹیکس وصول ہوگا، تاہم 31 اکتوبر کی آخری تاریخ تک صرف 222 نئے تاجروں نے گوشوارے جمع کرائے۔

ذرائع کے مطابق ٹیکس حکام نے تقریباً 15 لاکھ ایسے دکانداروں کی نشاندہی کی ہے جو اسکیم کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

ان میں سے صرف 2 لاکھ 90 ہزار پہلے ہی ٹیکس نظام کا حصہ تھے، جبکہ باقی تاجروں نے اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھایا۔تجویز کے مطابق نومبر کے اختتام تک 10 ہزار، دسمبر تک 35 ہزار اور جنوری 2027 کے اختتام تک 85 ہزار روپے جرمانہ ادا کرکے گوشوارے جمع کرانے کی سہولت دی جا سکتی ہے۔

ٹیکس حکام کا موقف ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 214 اے کے تحت حکومت چھوٹے دکانداروں کو عمومی رعایت دے سکتی ہے، تاہم دیگر ٹیکس دہندگان کے ساتھ امتیازی سلوک کا قانونی سوال بھی اٹھ رہا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بھی فکسڈ ٹیکس اسکیم کی ناکامی پر مایوسی کا اظہار کیا ،کمیٹی کے چیئرمین نوید قمر نے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا حکومت تاجروں کی ہڑتال کی دھمکیوں کے باوجود ان کے خلاف جرمانے اور قانونی کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے؟

Check Also

کراچی: پاور ہاؤس چورنگی کے قریب اسکول وین حادثے کا شکار ، 3بچے اور ڈرائیور زخمی

کراچی: نارتھ کراچی پاور ہاؤس چورنگی کے قریب اسکول وین حادثے میں 3 بچے زخمی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *