لندن: امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ سینٹکام نے ایران پر مختصر اور طاقت ور حملوں کا نیا منصوبہ تیار کیا ہے جس کے متعلق آج صدر ٹرمپ کو بریفنگ دی جائے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ براڈ کوپر کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو منصوبے کے متعلق بتایا جائے گا، اس منصوبے کے تحت ممکنہ طور پر ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس اور سینٹرل کمانڈ نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
خیال رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے دوران پاکستان کی کاوشوں سے جنگ بندی تین ہفتے قبل شروع ہوئی تھی۔
یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا، ایران نے جواباً اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے کیے، امریکا-اسرائیل کے ایران پر حملوں اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ پہلے بھی ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں، بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں، 1949 کے جنیوا کنونشنز کے تحت جنگ کے دوران شہریوں کے لیے ضروری مقامات پر حملے ممنوع ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک اور منصوبہ آبنائے ہرمز کے کچھ حصے پر کنٹرول حاصل کرنے پر مرکوز ہے تاکہ تجارتی جہاز رانی کو دوبارہ بحال کیا جا سکے، اور اس میں زمینی افواج بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
ایران جنگ، جو امریکا میں غیر مقبول ہے، اس نے منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، یہ جنگ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک کو تقریباً معطل کر چکی ہے، جو عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کا اہم راستہ ہے۔
ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کو امید ہے کہ اس دباؤ سے ایران کو جوہری مذاکرات میں زیادہ لچک دکھانے پر مجبور کیا جا سکے گا، ایک اور ممکنہ آپشن ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو محفوظ بنانے کے لیے خصوصی فورسز کا آپریشن ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کو فوری خطرہ قرار دیا ہے، تہران اس بات کی تردید کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے، تاہم وہ این پی ٹی کے رکن کے طور پر پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی، بشمول افزودگی، کا حق رکھتا ہے۔
ایگزیوس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر نئے حملوں کے منصوبوں کی بریفنگ میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین بھی شرکت کریں گے۔
THE PUBLIC POST