پاکستانی بلیو پاسپورٹ ختم ہو رہا ہے؟

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں پاسپورٹ ایکٹ میں ترمیم کا جائزہ لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلمانی امور کا اجلاس ڈاکٹر محمد ہمایوں مہمند کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں پاسپورٹ ایکٹ میں ترمیم کا جائزہ لیا گیا۔

اراکین کمیٹی نے تجویز دی کہ رکن کامیران مرتضیٰ نے کہا کہ پاکستان میں دو رنگ گرین اینڈ بلیو پاسپورٹ عوام کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہیں۔ دنیا کے تمام ممالک میں ہر پاکستانی کو برابر کی عزت ملنی چاہیے۔

اجلاس میں تجویز دی گئی کہ تمام پاکستانوں کے پاسپورٹ کا رنگ ایک ہی ہونا چاہیے۔ تاہم شناخت ضروری ہے تو پاسپورٹ میں متعلقہ فرد کا عہدہ لکھا جا سکتا ہے۔

بعد ازاں قائمہ کمیٹی نے اس معاملے پر مزید غور کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل یہ معاملہ سینیٹ میں زیر بحث آیا تھا، جہاں سینیٹر عبدالقادر نے پاسپورٹ ایکٹ 1974 میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا تھا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی جانب سے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پاسپورٹ رولز بڑے کلیئر ہیں کہ بچوں کے لیے بلیو پاسپورٹ نہیں دے سکتے۔

اسی اجلاس میں طلال چوہدری نے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے بیٹے کی جانب سے آفیشل (بلیو) پاسپورٹ پر اٹلی جا کر سیاسی پناہ لینے کا انکشاف کیا تھا۔

اراکین کی بحث کے بعد چیئرمین سینیٹ نے یہ بل مزید بحث کے لیے متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔

Check Also

ثناء یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی گئی

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کیس …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *