بجٹ میں عوام کو ریلیف نہیں ملا، سودی نظام کا بوجھ بڑھ رہا ہے، حافظ نعیم

لاہور:امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف نہیں ملا، بلکہ سودی نظام کا بوجھ ہی بڑھ رہا ہے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ 18 ہزار ارب روپے کے وفاقی بجٹ میں کوئی نئی چیز نہیں ہے ، بجٹ کا آدھے سے زیادہ حصہ سود کی ادائیگی میں چلا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک اقلیتی رکن نے بھی کہا کہ سود اللہ سے جنگ ہے، لیکن اس کے باوجود سودی نظام کو ختم کرنے کے بجائے مزید بڑھایا جا رہا ہے۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی کا پورا بوجھ پاکستانی عوام پر پڑتا ہے ۔ سود کی ادائیگی کے باعث 540 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پنشن اور تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا ہے۔ ای او بی آئی کے نظام میں بھی بے ضابطگیاں موجود ہیں، حالانکہ ملازمین کی تنخواہوں سے ای او بی آئی کی باقاعدہ کٹوتی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور بلاول بھٹو 43 ہزار روپے میں ایک گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں۔ بلاول بھٹو یہ بھی بتائیں کہ ان کے والد کی زمینوں پر کام کرنے والے ہاریوں کی کم از کم تنخواہ کتنی ہے۔

انہوں نے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بدترین فسطائیت قائم ہے ۔ عوامی رائے کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ کراچی کا میئر قابض ہے ، یہاں بھی جمہوریت کو قبول نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کبھی بریف کیس لے کر گلگت بلتستان اور بلوچستان پہنچ جاتے ہیں۔ سندھ میں گزشتہ 40 سال سے پیپلز پارٹی حکمران ہے، اس کے باوجود صوبے کے بچوں کی حالت زار نہیں بدلی، ہزاروں بچے اسکولوں سے باہر ہیں ، نہ مناسب سڑکیں ہیں اور نہ ہی معیاری تعلیم۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کی صورتحال سب کے سامنے ہے ۔ شہر کی سڑکوں کا بھی برا حال ہے۔ کراچی کو 15 ہزار بسوں کی ضرورت ہے ۔ جماعت اسلامی کی جانب سے پیش کی گئی انٹرن شپ آفر کے لیے 8 ہزار بچوں نے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ سندھ حکومت نے طلبہ کے لیے کچھ نہیں کیا ۔ پیپلز پارٹی کو فرینڈلی اپوزیشن ملی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے شہر کے مسائل پر کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھائی جا رہی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 28 فروری کی قیمتوں کے مطابق پیٹرول کی قیمتیں کم کیوں نہیں کی گئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے نرخ کم کیے جائیں ، سلیب سسٹم ختم کیا جائے۔ آئی ایم ایف کے کہنے پر لیوی ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔ یہ 24 واں آئی ایم ایف پروگرام ہے اور ہر مرتبہ یہی کہا جاتا ہے کہ یہ آخری پروگرام ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے اور پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ شہر کے 90 فیصد لوگ موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں، اس لیے عوام کو فوری ریلیف دیا جانا چاہیے۔ بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود اس کی ادائیگی کی جا رہی ہے۔ آئی پی پیز کے معاہدوں کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے وزیر خزانہ سے سوال کیا کہ ایف بی آر کیا کر رہا ہے ، 80 فیصد ٹیکس بھی جمع نہیں کر پاتا اور اس کے 25 ہزار ملازمین موجود ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے عوام کو بیدار ہونا ہوگا۔ جماعت اسلامی کے سوا کوئی سیاسی جماعت جمہوری اصولوں پر نہیں چلتی ۔ قوم کے پاس جماعت اسلامی کے سوا کوئی اور انتخاب نہیں ہے۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے مطالبہ کیا کہ کسی کا راستہ نہ روکا جائے اور اگر جماعت اسلامی حقیقی جمہوری طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے تو اسے آنے دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں رائے کو تقسیم نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ مینڈیٹ پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے مینڈیٹ چھیننے کی کوشش کی تو مزاحمت کی جائے گی ۔ اب بندر بانٹ نہیں ہونے دی جائے گی۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے 800 ارب روپے اپنے انتظامی اخراجات پر خرچ کر دیے ہیں۔ علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایران نے امریکا اور اسرائیل کو شکست دی ہے، تاہم اسرائیل اب بھی لبنان پر حملے اور فلسطین پر بمباری کر رہا ہے۔ انہوں نے مسلم ممالک سے اسرائیل کے خلاف مشترکہ اقدامات کا مطالبہ کیا اور مزید کہا کہ حکومت نے ثالثی کے حوالے سے جو کردار ادا کیا، وہ ایک اچھا اقدام تھا۔

Check Also

سانحہ گل پلازہ:پولیس نے تنویر پاستا اور ساتھیوں کو ذمے دار قرار دے دیا

کراچی:سانحہ گل پلازہ کیس میں پولیس نے تنویر پاستا اور اس کے ساتھیوں کو سانحے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *