تحریک انصاف دو دن میں کشمیر سے متعلق بڑا فیصلہ کرے گی، بیرسٹر گوہر

پشاور: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ بات چیت نہیں ہورہی اور فی الحال مذاکرات صرف نام اور پیشکش کی حد تک ہیں، سہیل آفریدی کی تبدیلی کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں، کشمیر سے متعلق پی ٹی آئی دو دن میں بڑا فیصلہ کرے گی۔

وہ پشاور ہائی کورٹ میں صحافیوں سے بات چیت کررہے تھے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکراتی عمل اب اِن لوگوں کی ذمہ داری ہے جن کے ہاتھوں میں اختیار ہے کیونکہ محمود اچکزئی صاحب نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیراعظم سے ہاتھ ملایا، اگر کوئی اسے ہماری کمزوری سمجھ رہا ہے تو یہ ان کی بھول ہے۔

وزیراعلی سہیل آفریدی کی تبدیلی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ خبریں بے بنیاد ہیں اس وقت اسمبلی میں ان کی جگہ لینے والا کوئی امیدوار نہیں، نہ ہی علی امین گنڈا پور ان کی جگہ لے رہے ہیں، ناراض اراکین پی ٹی آئی سے آج اسلام آباد میں ملاقات ہوگی، انہیں سنا جائے گا، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کشمیر الیکشن کے حوالے سے فیصلہ آئندہ دو دنوں میں کرے گی ابھی تک پارٹی نے آزاد کشمیر انتخابات کے بائیکاٹ کا کوئی فیصلہ نہیں کیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا نوٹی فکیشن مکمل طور پر جعلی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر کی صورتحال انتہائی گمبھیر ہے کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور تحریک انصاف آئندہ دنوں میں کشمیر کے حوالے سے اہم فیصلے کرنے جا رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی اس وقت کشمیر پر گہری نظر ہے مصلحتوں کو موقع دیا جائے اگر کشمیر کے عوام اپنی محرومیوں کے لئے احتجاج کررہے ہیں تو ان کا یہ احتجاج پرامن ہونا چاہیے حکومت کو بھی خون خرابے سے گریز کرنا چاہیے کشمیر کے الیکشن کے حوالے سے ایک دو روز میں پاکستان تحریک انصاف اہم فیصلے کرنے والی ہے۔

انہوں نے بتایاکہ پاکستان تحریک انصاف سے الیکشن میں انتخابی نشان چھین لیا گیا، ہری پور، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ہم سے ہمارا انتخابی نشان لینے سے ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں لیکن فی الحال مذاکرات صرف نام اور پیشکش کی حد تک محدود ہیں کوئی بات چیت کہیں بھی نہیں بڑھی یہ ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جن کے ہاتھ میں اختیار ہے اگر چہ ہماری طرف سے محمود خان اچکزئی کے پاس اختیار ہے اچکزئی صاحب نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیراعظم سے ہاتھ ملایا، مسائل کا حل ڈھونڈنا ہر سرکاری اور عوامی عہدہ رکھنے والے کا فرض ہے

بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل میں قید کے دوران سہولیات اور ملاقاتوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 250 دن گزرنے کے باوجود عمران خان سے کسی کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، ملاقاتوں کا سلسلہ فوری طور پر بحال کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کی فیملی کی مرضی کے اسپتال میں طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

صوبائی بجٹ کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے بہترین بجٹ پیش کیا ہے، ہم خسارے کا بجٹ نہیں دینا چاہتے تھے مگر مجبوری میں دینا پڑا۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ وفاقی حکومت صوبے کو این ایف سی کا مقررہ حصہ نہیں دے رہی، جبکہ فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں ٹیکس کا نفاذ غلط ہے، حکومت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے کیونکہ یہ علاقے قدرتی آفات اور سیلاب سے متاثرہ ہیں، انہیں ریلیف کی ضرورت ہے۔

پارٹی میں اندرونی اختلافات اور گروپ بندی کی تردید کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ تحریک انصاف ایک جمہوری جماعت ہے، کچھ ارکان اسمبلی کو بعض امور پر تحفظات تھے، تاہم اب بانی پی ٹی آئی کے فیصلے پر سب متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈا پور پارٹی کا اثاثہ ہیں، انہوں نے صوبے میں اچھی حکومت چلائی ہے، ان کے حوالے سے کسی قسم کی گروپ بندی نہیں ہے۔

Check Also

وفاق نے 175 ارب روپے کی جگہ صرف 91 ارب روپے جاری کیے، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ نظرثانی شدہ بجٹ تخمینوں کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *