بیرون ملک بیٹھے بھتہ خوروں کی گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کر دیں، ایڈیشنل آئی جی

کراچی: ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے کہا ہے کہ ملک سے باہر بیٹھے جرائم پیشہ گروہوں کی واپسی اور گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں، بھتہ خور گروہوں کے سرغنہ مختلف موبائل ایپس کے ذریعے بیرون ملک سے اپنے نیٹ ورک چلا رہے ہیں، اس لیے پولیس میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔
فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی) میں تاجروں اور صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی مرکز ہے، جہاں فلاحی سرگرمیوں کے ساتھ بھتہ خوری اور گداگری جیسے مسائل بھی موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جن بھتہ خور گروپوں کے سرغنوں کے ریڈ وارنٹ جاری کیے گئے تھے، وہ اب بیرون ملک مطلوب ملزمان میں شامل ہیں

ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ علی رضا کیس کی تحقیقات شواہد اور حقائق کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں اور تحقیقاتی کمیٹی جذبات سے بالاتر ہو کر فیصلہ کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

؎انہوں نے بتایا کہ سندھ پولیس نے چہلم کے موقع پر خصوصی سیکیورٹی پلان تشکیل دے دیا ہے۔ چونکہ چہلم اور یومِ شہداء ایک ہی تاریخ کو آ رہے ہیں، اس لیے یومِ شہداء کی تقریبات ایک روز بعد منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یومِ آزادی کے موقع پر بلوچستان میں دہشت گردی کا خدشہ رہتا ہے، جس کے پیش نظر سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

آزاد خان کا کہنا تھا کہ بے روزگاری جرائم اور اسٹریٹ کرائم میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے، جبکہ ملک اور خطہ دہشت گردی کے خطرات سے بھی دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود سندھ پولیس عوام کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں اب کوئی نو گو ایریا نہیں رہا اور پولیس شہر کے ہر حصے میں کارروائیاں کر رہی ہے۔ حالیہ جرائم میں ملوث ایک گروہ کے خلاف کامیاب کارروائی کی گئی ہے، جبکہ اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے دو بڑے نیٹ ورکس کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیونٹی پولیسنگ اور منشیات کے خلاف مہم بھی جاری ہے اور دہشت گردی کے الرٹس پر پولیس نے بروقت کارروائیاں کی ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ کراچی میں منشیات کا نیٹ ورک تیزی سے پھیل رہا ہے، خاص طور پر اسکولوں اور کالجوں میں اس کی سرگرمیاں تشویشناک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی سیف سٹی منصوبے کے تحت اب تک 1300 کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید 2 ہزار کیمرے لگائے جا رہے ہیں اور شہر بھر میں ہزاروں مزید کیمرے نصب کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ شہر کو ٹریفک مینجمنٹ، روڈ مینٹیننس اور ماس ٹرانسپورٹ کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ای چالان سسٹم متعارف کرایا گیا۔ ان کے مطابق کراچی میں تقریباً 46 لاکھ موٹر سائیکلیں اور چنگ چی رکشے چل رہے ہیں، جبکہ چھوٹی تجاوزات بھی ٹریفک مسائل کی بڑی وجہ بن چکی ہیں۔ انکروچمنٹ کے خاتمے کے لیے نیا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے، جس کا آغاز ڈسٹرکٹ سینٹرل سے ہوگا، جبکہ صنعتی علاقوں میں قائم ہوٹلوں کو بھی ریگولیٹ کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر فباٹی کے صدر شیخ تحسین نے کہا کہ فیڈرل بی ایریا کے صنعتی یونٹس مختلف تھانوں کی حدود میں واقع ہیں اور یہاں تقریباً دو ہزار ایس ایم ایز کام کر رہی ہیں، جن سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ فباٹی کا صنعتی علاقہ اس وقت بھتہ خوری سے محفوظ ہے، تاہم شہر کے دیگر صنعتی علاقوں میں یہ مسئلہ تشویشناک ہے۔

شیخ تحسین نے فباٹی کو ماڈل زون بنانے، سیف سٹی منصوبے کی تفصیلات فراہم کرنے اور صنعتی علاقوں میں سرویلنس ٹیکنالوجی اور اینٹی انکروچمنٹ اقدامات مزید مؤثر بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

Check Also

جولائی میں اشیائے خورونوش کے دام آسمان پر،ٹماٹر، آٹا، چکن اور انڈے مہنگے ہوگئے

اسلام آباد: رواں مالی سال 2026-27 کے پہلے ماہ (جولائی 2026) کے دوران ملک میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *