اسلام آباد: پمز اسپتال میں آتش زدگی کے باعث جاں بحق ہونے والے ایک نومولود بچے کے والد ادریس خان نے بتایا ہے کہ ان کے بیٹے کی پیدائش گزشتہ روز فجر کے وقت ہوئی تھی، اور انھوں نے بیٹے کے کان میں اذان دی، اور پھر اس کا نام بھی رکھا۔
انتہائی غم زدہ باپ ادریس خان نے بتایا کہ ان کے ہاں 4 سال بعد پیدا بچہ پیدا ہوا تھا، وہ بھی بیٹا، انھوں نے کہا میں نے عملے سے کہا کہ ڈاکٹر نے کہا ہے کہ بچے کو نرسری میں رکھنے کی ضرورت نہیں، لیکن مجھے کہا گیا کہ بچے کو 2 ڈھائی گھنٹے نرسری میں رکھنا پڑے گا۔
نومولود کے والد نے کہا جب میں بچے کو لینے گیا تو دیکھا کہ نرسری کے گیٹ پر تالا پڑا تھا اور اندر سے دھواں نکل رہا تھا، افراتفری کا عالم تھا اور نرسری کے گیٹ پر کوئی عملہ موجود نہیں تھا۔
ادریس خان نے بتایا ہم نے خود ہی کھڑکیاں توڑیں اور پھر تالا توڑنے کی کوشش کی، جب آگ لگی ہوئی تھی تو فائر بریگیڈ اور کوئی بھی عملہ موجود نہیں تھا، آدھے گھنٹے سے زائد دیر سے فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیم پہنچی، لیکن جب تک ریسکیو ٹیمیں آتیں، بچے آگ سے جھلس چکے تھے۔
انھوں نے کہا اسپتال میں آگ سے بچنے کے لیے کوئی چیز نہیں تھی، نہ فائر الارم اور نہ ہی رین الارم تھے، ہم نے خود شیشے توڑ کر اندر جا کر تالے توڑے ہیں، 3 سے 4 بچے ہم نے خود نرسری سے باہر نکالے ہیں، نرسری میں آگ لگنے کے بعد ڈاکٹرز بھی کچھ بچوں کو لے کر نکلے تھے۔
ادریس نے کہا ’’میرے یہاں 4 سال بعد اولاد ہوئی تھی، اب کون اس کا ہرجانہ بھرے گا۔‘‘
واضح رہے کہ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع سرکاری اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔
THE PUBLIC POST