میر رضا کیس؛ کمیشن نے ایک لاکھ روپے انعام کی پیشکش واپس لے لی

کراچی: میر رضا کیس پر قائم کمیشن نے گزشتہ روز ہونے والی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کی جانب سے معلومات فراہم کرنے پر ایک لاکھ روپے انعام کی پیشکش واپس لے لی گئی جبکہ کمیشن کی ای میل اور واٹس ایپ بھی غیر فعال کر دیا گیا ہے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق میر حسین علی خان، مریم حسین اور جبران ناصر ایڈووکیٹ کمیشن میں موجود رہے، جبکہ ایڈیشنل سیکریٹری جاوید احمد ابڑو، سی پی ایل سی کے گواہ کاشف افتخار، طٰہٰ پراچہ اور تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔

کاشف افتخار اور ڈی ایس پی سراج لاشاری کے بیانات قلمبند کرلیے گئے۔ کے الیکٹرک کی نمائندہ رابعہ، مینجنگ ڈائریکٹر کے الیکٹرک سید محمد طلحہ کی جانب سے کمیشن کے سامنے پیش ہوئیں اور ایک سیل شدہ لفافہ جمع کرایا، جسے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا۔

تحریری حکم نامے کے مطابق کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے کمیشن کی درخواست پر فوری اور مؤثر ردعمل دینے پر سید محمد طلحہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی کاوش کو سراہا۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ بیانات قلمبند کرنے کے عمل کو ختم کرنے سے پہلے وہ ان تمام افراد کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے کمیشن کے کام میں معاونت کی۔

انہوں نے چیف جسٹس سندھ جسٹس ظفر احمد راجپوت کا کمیشن کی سربراہی کے لیے ان پر اعتماد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کا کمیشن کو غیر متزلزل اور مکمل تعاون فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

حکم نامے کے مطابق جسٹس عمر سیال نے فریال تالپور کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے حقیقی حقائق سامنے لانے اور عوام کے خدشات و قیاس آرائیوں کے خاتمے کے لیے کمیشن کی تجویز دی۔

جسٹس عمر سیال نے مریم، علشبہ اور میر حسین کا کارروائی کے دوران صبر، حوصلے، وقار اور شائستگی کا مظاہرہ کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ جاوید ابڑو، سیکشن آفیسر محکمہ داخلہ اعجاز علی بھٹی اور ڈپٹی سیکریٹری داخلہ نوید آرائیں کا کمیشن کی ہر ہدایت اور درخواست پر فوری اور فعال ردعمل دینے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان افسران نے بہت محنت سے کام کیا۔

حکم نامے میں میر حسین فیملی کے وکیل جبران ناصر کی کمیشن کے ساتھ بہترین لگن اور باوقار رویے کے ساتھ معاونت کو بھی سراہا گیا۔

جسٹس عمر سیال نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرو کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بار غلطی کرنے کے بعد انتہائی وقار اور شائستگی کے ساتھ سامنے آئے۔

کمیشن کے سربراہ نے بعض گواہوں کے وکلا معروف حسین اور خالد ممتاز کا بھی کمیشن کی درخواستیں قبول کرنے اور کارروائی کے وقار و ڈیکورم کو برقرار رکھنے پر شکریہ ادا کیا۔

تحریری حکم نامے میں پریس اور میڈیا کے ارکان کا بھی شکریہ ادا کیا گیا جو ہر اجلاس میں موجود رہے اور کارروائی کی پیشہ ورانہ، درست اور سنجیدہ رپورٹنگ کی۔

جسٹس عمر سیال نے صحافیوں بابر سلیم اور صولت جعفری کا بھی خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے شاندار تحقیقی کام کے ذریعے انہیں بہت مدد ملی، اگرچہ صحافیوں نے اس بات کا علم رکھے بغیر یہ کام کیا۔

انہوں نے تمام گواہوں کا بھی شکریہ ادا کیا جو بیانات قلمبند کرانے کے لیے پیش ہوئے اور کمیشن کے سخت سوالات کا جواب دیتے ہوئے ضبط اور وقار برقرار رکھا۔

حکم نامے کے مطابق جسٹس عمر سیال نے ان تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں معلومات فراہم کیں، جن سے انہیں اپنے کام میں مدد ملی۔ انہوں نے ان افراد کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے کسی نہ کسی بہانے کمیشن پر مسلسل تنقید کی۔

کمیشن کے سربراہ نے کمیشن کے عملے کی لگن، محنت اور جذبے کو بھی سراہا جو اکثر رات گئے تک کام کرتا رہا۔

جسٹس عمر سیال نے حکومت سندھ سے درخواست کی کہ کمیشن کے عملے کے لیے بطور بونس دو بنیادی تنخواہوں کی منظوری پر غور کیا جائے، کیونکہ ان کی تنخواہیں زیادہ نہیں ہیں۔ تحف

تحریری حکم نامے کے مطابق میر رضا کیس پر قائم کمیشن کی کارروائی اختتام پذیر ہوگئی ہے۔

Check Also

بانی پی ٹی آئی اپنی تقاریر میں طالبان کے دفاتر یہاں کھولنے کی بات کرتے رہے ہیں، شرجیل میمن

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اپنی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *