ایک فلسطینی خاتون نے اپنے بیٹے کی پیدائش کے وقت اسرائیلی بربریت کا ہولناک انکشاف کر کے حساس دلوں کو لرزہ دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امل العبادیہ خاتون نے برطانوی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں اپنے بیٹے کی پیدائش کے وقت دل دہلا دینے والے واقعے کا انکشاف کیا ہے۔
امل العبادیہ جنہوں نے اپنے دوسرے بیٹے محمد کو 7 اکتوبر 2023 کو جنم دیا تھا۔
تین سال بعد امل اپنے بیٹے محمد اور دوسرے بیٹے نوح کے ساتھ المواصی کے ایک پناہ گزین کیمپ میں اس کی تیسری سالگرہ مناتے ہوئے امل نے اس دل دہلا دینے والے واقعے کو یاد کیا۔
خاتون نے بتایا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے خوفناک دن تھا۔ اسرائیلی حملوں کے دوران انہوں نے محمد کو جنم دیا اور بمباری کی آوازوں سے آپریشن تھیٹر لرز رہا تھا۔
امل کے مطابق ان کی روزمرہ زندگی مسلسل مشکلات کا سامنا کرنے میں گزر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر صبح یہ سوچ کر آنکھ کھلتی ہے کہ آیا وہ دن گزار پائیں گے، کھانے کو کیا ملے گا اور کیا آج پانی کا ٹرک آئے گا۔
فلسطینی خاتون امل کا کہنا ہے کہ ان کے دونوں بیٹے ابھی اتنے چھوٹے ہیں کہ صورتحال کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتے، تاہم راکٹوں کی آواز سنتے ہی انہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ خطرہ ہے۔ بچے خوفزدہ ہوکر ان کے پاس بھاگتے ہیں اور کہتے ہیں، ’’ماما، ہمیں ڈر لگ رہا ہے۔‘‘
THE PUBLIC POST