چین کے خود مختار علاقے تبت میں گزشتہ روز آنے والے زلزلے کے نتیجے میں اب تک 16 افراد ہلاک اور 65 زخمی ہوچکے ہیں جبکہ 12 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔
زلزلہ شمالی تبت کے کم آبادی والے بلند پہاڑی شہر ناگچو میں آیا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7 ریکارڈ کی گئی،یہ جنوری 2024 کے بعد چین میں آنے والا سب سے شدید زلزلہ تھا۔
ناگچو پولیس محکمے کے مطابق زلزلے کے مرکز پر امدادی سرگرمیوں اور ہنگامی کارروائیوں میں معاونت کے لیے 300 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جن میں ٹریفک اور کمیونٹی پولیس کے اہلکار بھی شامل تھے۔پولیس اہلکار متاثرہ گھروں کا معائنہ اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق زلزلے کے بعد 12 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
مقامی حکام کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں امدادی کارکنوں کو رات کے وقت ٹرکوں پر امدادی سامان لادتے اور ٹارچوں کی روشنی میں تباہ شدہ عمارتوں اور ملبے کا معائنہ کرتے دیکھا گیا۔
اس سے قبل جاری ہونے والی ویڈیوز میں شہریوں کو اپنے گھروں سے نکل کر کھلی جگہوں پر جمع ہوتے یا سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں میں پناہ لیتے دیکھا گیا تھا۔
ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ زلزلے کے شدید جھٹکے سے ان کی آنکھ کھل گئی اور انہیں زلزلے کے دوران گھر کے چرچرانے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔چائنا ارتھ کوئیک نیٹ ورکس سینٹر کے مطابق مرکزی زلزلے کے بعد 413 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے گئے۔
تبت میں حالیہ زلزلے نے مغربی چین میں آنے والی ماضی کی بڑی قدرتی آفات کی یاد تازہ کردی ہے۔
2010 میں چین کے علاقے یوشو میں 7.1 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم 2 ہزار 698 افراد ہلاک اور تقریباً 300 لاپتا ہوگئے تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا اظہارِ افسوس
وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں چین کے خودمختار علاقے تبت کے شہر ناگچو میں زلزلے کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع اور شہریوں کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے حکومت اور پاکستان کے عوام کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ اور چین کے عوام سے تعزیت کی،بالخصوص ان خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا جن کے پیارے اس سانحے میں جاں بحق ہوئے۔
شہباز شریف نے زلزلے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں اپنے چینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
THE PUBLIC POST