رات کے وقت کون سی دال کھانے سے گریز کرنا چاہیے؟

دالیں ہمارے کھانوں کا اہم حصہ ہیں۔ چاہے دوپہر کا کھانا ہو یا رات کا، گرم گرم دال کے ساتھ روٹی یا چاول دسترخوان کی رونق بڑھا دیتے ہیں۔ دالیں پروٹین، فائبر، آئرن، پوٹاشیم اور دیگر ضروری غذائیت سے بھرپور ہوتی ہیں، جو جسم کو توانا رکھتی ہیں۔

تاہم، کچھ لوگوں کو رات کے وقت مخصوص دالیں کھانے سے گیس، پیٹ پھولنے اور بدہضمی کی شکایت ہوسکتی ہے۔ اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ رات کے کھانے میں دال کا انتخاب کیسے کیا جائے تاکہ ذائقے کے ساتھ صحت کا بھی خیال رکھا جاسکے۔

رات کے وقت کون سی دالیں کھانے سے گریز کرنا چاہیے؟

شام یا رات کے وقت ایسی دالیں کھانے سے بچنا چاہیے جو ہضم ہونے میں بھاری ہوں۔

اڑد کی دال

اڑد کی دال فائبر اور پروٹین سے مالامال ہونے کے ساتھ ساتھ قدرتاً بہت بوجھل ہوتی ہے۔ معدے کو اسے ہضم کرنے کے لیے خاصی محنت کرنا پڑتی ہے۔ خاص طور پر اگر اسے زیادہ مقدار میں یا گاڑھا پکاکر کھایا جائے تو پیٹ میں گیس، اپھارہ اور بھاری پن محسوس ہوسکتا ہے۔

جن لوگوں کو پہلے ہی بدہضمی یا گیس کی شکایت رہتی ہے، انہیں رات کے کھانے میں اڑد کی دال کم مقدار میں کھانی چاہیے۔ اگر اس دال کے استعمال کے بعد بار بار تکلیف ہوتی ہے تو اسے کچھ عرصے کے لیے محدود کرکے دیکھا جاسکتا ہے۔

چنے کی دال

خاص طور پر اگر اسے زیادہ مقدار میں یا گاڑھا پکاکر کھایا جائے تو پیٹ میں گیس، اپھارہ اور بھاری پن محسوس ہوسکتا ہے۔

جن لوگوں کو پہلے ہی بدہضمی یا گیس کی شکایت رہتی ہے، انہیں رات کے کھانے میں اڑد کی دال کم مقدار میں کھانی چاہیے۔ اگر اس دال کے استعمال کے بعد بار بار تکلیف ہوتی ہے تو اسے کچھ عرصے کے لیے محدود کرکے دیکھا جاسکتا ہے۔

چنے کی دال

چنے کی دال میں پروٹین اور فائبر اچھی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ یہ غذائی اجزا صحت کے لیے مفید ہیں، لیکن آنتوں میں موجود جراثیم فائبر کے کچھ حصوں کو توڑتے ہیں، جس کے نتیجے میں گیس بن سکتی ہے۔

اگر رات کو چنے کی دال کھانے کے بعد پیٹ پھولنے، درد یا بھاری پن کی شکایت ہوتی ہے تو اس کی مقدار کم رکھیں۔ دال کو پکانے سے پہلے پانی میں بھگونا اور اچھی طرح گلانا بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

اسی طرح ثابت چنے، لوبیا اور ثابت سبز مونگ بھی بعض افراد میں گیس پیدا کرسکتے ہیں۔ تاہم، ان غذاؤں کو ہر شخص کے لیے رات کے وقت نقصان دہ قرار دینا درست نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ کا نظامِ ہاضمہ کس غذا کو کس حد تک برداشت کرتا ہے۔

رات کے وقت کون سی دالیں کھائی جا سکتی ہیں؟

اگر آپ رات کے کھانے میں دال کو شامل کرنا چاہتے ہیں تو ہلکی اور زود ہضم دالوں کا انتخاب کریں۔

مونگ کی دال

یہ ہضم کرنے کے لیے سب سے ہلکی دال مانی جاتی ہے اور اسے اچھی طرح پکا کر کھانا آسان ہوتا ہے۔ جن افراد کو دوسری دالوں سے گیس ہوتی ہے، وہ مونگ کی دال کی تھوڑی مقدار آزما سکتے ہیں۔

مسور کی دال

مسور کی دال بھی ہلکی ہوتی ہے۔ مسور کی دال بھی پروٹین اور فائبر فراہم کرتی ہے اور مناسب مقدار میں اچھی طرح پکا کر کھائی جاسکتی ہے۔

ارہر یا تور کی دال

اسے پتلا بنا کر اور خاص طور پر ہینگ کا تڑکا لگا کر رات کے وقت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی دال سے آپ کو تکلیف نہیں ہوتی تو محض رات ہونے کی وجہ سے اسے چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔

دال پکانے کا درست طریقہ کیا ہے؟

دال کو پکانے سے پہلے کچھ وقت پانی میں بھگونے سے اسے جلد گلانے میں مدد ملتی ہے۔ اسے اچھی طرح پکائیں اور رات کے کھانے میں بہت زیادہ مقدار کھانے سے گریز کریں۔

دال میں زیرہ، اجوائن یا ہینگ شامل کرنے سے بعض افراد کو گیس کی شکایت میں کمی محسوس ہوسکتی ہے، لیکن ان اجزا سے ہر شخص کو یکساں فائدہ نہیں ہوتا۔

اس کے علاوہ بہت زیادہ تیل، گھی اور مرچ مصالحے استعمال کرنے سے بعض لوگوں میں بدہضمی اور سینے کی جلن بڑھ سکتی ہے۔

کھانے کے بعد فوراً سونے سے گریز کریں

رات کا کھانا سونے سے تقریباً دو سے تین گھنٹے پہلے کھانا بہتر ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جنہیں تیزابیت یا سینے میں جلن کی شکایت رہتی ہے۔ کھانے کے بعد 10 سے 15 منٹ کی ہلکی چہل قدمی بھی مفید ہوسکتی ہے۔

کھانا آہستہ آہستہ چباکر کھائیں اور ایک وقت میں ضرورت سے زیادہ غذا نہ لیں۔ اگر گیس، پیٹ درد یا بدہضمی مسلسل رہتی ہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

دالیں صحت مند غذا کا اہم حصہ ہیں اور انہیں رات کے کھانے میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ کسی دال کو ہر شخص کے لیے نقصان دہ قرار دینے کے بجائے اس کی مقدار، پکانے کے طریقے اور جسم پر ہونے والے اثرات کو دیکھنا زیادہ ضروری ہے۔

متوازن مقدار میں دال کھانے سے جسم کو پروٹین اور دیگر اہم غذائی اجزا ملتے ہیں، اس لیے اپنی غذا سے دالیں مکمل طور پر نکالنے کے بجائے مناسب انتخاب کرنا بہتر ہے۔

Check Also

کھیرے اور ٹماٹر سلاد میں ایک ساتھ کھانا معدہ کے لیے کتنا نقصان دہ ہے؟

وزن کم کرنے کی خواہش ہو یا معدے کو فٹ رکھنا ہو، کھیرا اور ٹماٹر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *