سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے بننے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ کراچی میں 20 برس سے الیکٹرک انسپکشن معطل ہے۔
سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا۔ الیکٹرک انسپکٹر پرویز احمد کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ الیکٹرک انسپکٹر لوڈ اور اسپکشن کا جائزہ لیتا ہے۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ انسپکشن میں کیا کیا جاتا ہے؟ پرویز احمد نے بتایا کہ بجلی کا انفرااسٹرکچر چیک کا کرنا ہمارا کام ہے۔ فائر فائٹنگ سامان کی ایکسپائری چیک کرتے ہیں۔ 20 سال سے انسپکشن معطل ہے۔
کمیشن نے سوال کیا وجہ ہے؟ الیکٹرک انسپکٹر نے کہا کہ ڈپارٹمنٹ اور انرجی منسٹری نے منع کیا ہوا ہے۔
پرویز احمد نے نوٹفکیشن کمیشن کو پیش کردیا۔ جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے لیے بتادیں کہ نوٹس ایریگیشن اور پاور نے 2003 میں جاری کیا، جب آپ کو تو پہلے ہی اوپر سے کام بند کرنے کی ہدایات ہیں تو پھر آپ کو کیوں بلائیں۔
صحافی محمد بابر جرح کے لیے پیش ہوئے۔ چیف فائر افسر ہمایوں خان نے جرح کرتے ہوئے سوال کیے کہ آپ کے پاس فائر فائٹنگ کی تربیت یا تعلیم نہیں ہے، آپ گل پلازہ آپریشن میں شامل نہیں تھے۔
جواب دیتے ہوئے بابر سلیم نے کہا کہ میں گل پلازہ میں پہلے روز نہیں لیکن بعد میں اندر گیا تھا۔ ہمایوں خان نے پوچھا آپ نے کہا میری تعیناتی عدالت میں چیلنج کی گئی۔ ایسا کوئی آرڈر موجود نہیں ہے۔ عہدہ خالی ہونے پر گریڈ 18 کے افسران موجود تھے۔ پروموشن کے افسران کی اہلیت کے تناظر میں قائم مقام چارج دیا گیا۔ فائر بریگیڈ اور اربن سرچ اینڈ ریسکیو ایک ہی ادارے ہیں۔ 1991 میں بطور فائر فائٹر تعیناتی ہوئی۔ 2009 سے فائر بریگیڈ میں بھرتیاں بند ہیں۔ 22 میں سے 12 عہدے خالی ہیں۔ 35 برس بعد اپگریڈیشن کے بعد چیف فائر افسر کا عہدہ گریڈ 19 کا ہوگیا ہے۔ چیف فائر افسر کے ساتھ ٹیم لیڈر کے فرائض انجام دے رہا ہوں۔
جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیے کہ سوالات بیان کے حوالے سے رکھے جائیں۔ چیف فائر افسر کی جانب سے فائر بریگیڈ اور اربن سرچ اینڈ ریسکیو کے پاس دستیاب آلات کی ویڈیو کمیشن میں پیش کی گئی۔
صحافی محمد بابر نے کہا کہ انکی فہرست میں 29 آلات ہیں، ایس او پی کے تحت 41 آلات ہوتے ہیں۔ شہریوں کو ریسکیو کرنے والے شہری محمد دانش پیش ہوئے۔ ڈی جی ریسکیو 1122 سید واجد صبغت اللہ نے جرح کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ تربیت یافتہ فائر فائٹر ہیں؟ دانش نے کہا کہ سول ڈیفنس سے ایک ماہ کا کورس کیا تھا، میں دس بجکر بیس منٹ پر گل پلازہ پہنچا۔ کے ایم سی کے فائر ٹینڈر سے سیڑھی لیکر اوپر گیا۔
انہوں نے کہا کہ میرے پہنچنے کے بعد پہلا فائر ٹینڈر گل پلازہ پہنچا۔ ڈی جی نے سوال کیا کہ آپ کو کتنی دیر لگی اوپر پہنچنے میں۔ دانش نے کہا کہ وقت کا اندازہ نہیں۔
THE PUBLIC POST