ایف بی آر افسر کی جانب سے خواتین ڈاکٹرز کو ہراساں کرنا مہنگا پڑ گیا

کراچی:ایف بی آر افسر کی جانب سے خواتین ڈاکٹرز کو ہراساں کرنا مہنگا پڑ گیا۔

خواتین سائیکالوجسٹس نے ایف بی آر افسر محمود الرحمن خٹک اور انیلہ کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے خلاف سٹی کورٹ / ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔

درخواست پر عدالت نے ایس ایچ او ساحل کو حکم دیا کہ درخواستگزاروں کو ہراساں کرنے سے روکا جائے ۔ عدالت نے حکم دیا کہ پولیس ہراسانی کی روک تھام یقینی بنائے۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواستگزار خواتین سائیکالوجسٹ اور نجی کلینک چلاتی ہیں۔ ایف بی آر افسر کا آٹزم کا شکار بچہ درخواستگزار خواتین کے پاس زیر علاج تھا۔

درخواست گزار راحیلہ اور روتابا کے مطابق علاج پر اعتراض کے بعد بدتمیزی کی گئی۔ وکیل نے بتایا کہ ایف بی آر افسر اور اہلیہ گارڈز کے ہمراہ کلینک پہنچے۔ درخواست گزاروں کو ہراساں کیا اور زبردستی ریفنڈ کا چیک بھی لیا۔

وکیل شیخ ثاقب ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ بے بنیاد الزامات لگا کر درخواست گزاروں کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ ایف بی آر افسر سرکاری اثرورسوخ استعمال کر رہے ہیں۔ معاملے کی شکایت چیئرمین ایف بی آر کو بھی ارسال کی گئی ہے، جس پر انکوائری جاری ہے۔ ایف بی آر افسر کوئٹہ میں تعینات ہے۔

Check Also

کراچی؛ ایچ آئی وی متاثرہ بچوں کے والدین کا احتجاج،مطالبات نہ ماننے پر بچوں کو آگ لگانے کی دھمکی

کراچی: ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے والدین نے ولیکا اسپتال میں احتجاجی مظاہرہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *