ٹرمپ کی خفیہ کال لیک؟ ایران امن ڈیل کے بدلے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عرب رہنماؤں کے ساتھ ایران جنگ اور امن ڈیل سے متعلق مبینہ ٹیلیفونک گفتگو کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں جن میں اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے عرب رہنماؤں سے کہا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ اور آبنائے ہرمز کھولنے کے حوالے سے پیش رفت اسی صورت ممکن ہوگی جب عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق اس کانفرنس کال میں ترکی، قطر، سعودی عرب اور مصر کے رہنما شریک تھے۔

بتایا گیا ہے کہ گفتگو کا بنیادی مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی، جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق پیش رفت پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے ان ممالک پر زور دیا جو 1948 سے اسرائیل کی مخالفت کرتے آئے ہیں کہ وہ اب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کریں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عرب رہنما ٹرمپ کے اس مطالبے پر حیران رہ گئے اور کافی دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ یہاں تک کہ صدر ٹرمپ نے مذاقاً پوچھا کہ آیا تمام رہنما اب بھی کانفرنس کال پر موجود ہیں یا نہیں۔

امریکی ویب سائٹ کے مطابق بعد ازاں ٹرمپ نے گفتگو ختم کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے معاملے پر ان کے نمائندے جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف آئندہ ہفتوں میں متعلقہ ممالک سے رابطہ کریں گے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان جاری کرتے ہوئے اسلامی ممالک پر ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے پر زور دیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکیہ اور دیگر ممالک کو ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنے چاہییں کیونکہ یہ معاہدہ معاشی اور سماجی ترقی کیلئے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

Check Also

امریکا نے ایران پر پھر حملہ کر دیا،مذاکراتی عمل کو بڑا دھچکا

جنگ بندی اور مذاکرات کی کوششوں کے دوران امریکا نے جنوبی ایران میں فضائی حملے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *