لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب Azma Bukhari نے کہا ہے کہ منشیات کیس میں زیرِ بحث آنے والی پنکی کے معاملے پر ڈرامہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم ان کے بقول یہ ایک ایسا موضوع تھا جس پر فلم بھی بنائی جا سکتی تھی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب حکومت ملک میں فلم اور سینما انڈسٹری کی بحالی کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فلمی صنعت میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور معیاری فلموں کے ذریعے نہ صرف تفریح فراہم کی جا سکتی ہے بلکہ ملک کا مثبت تشخص بھی دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف اچھے گانوں کی تیاری کافی نہیں بلکہ معیاری اور مضبوط کہانیوں پر مبنی اچھی فلمیں بھی بنانا ہوں گی۔ ان کے مطابق فلم اور ڈرامہ معاشرے کی عکاسی کے ساتھ ساتھ قومی تشخص کو اجاگر کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب کا کہنا تھا کہ حکومت فلم سازوں اور فنکاروں کو بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ مقامی فلمی صنعت دوبارہ اپنے عروج کی جانب گامزن ہو سکے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پاکستانی سینما مستقبل میں مزید معیاری اور بین الاقوامی معیار کی فلمیں پیش کرے گا۔
تقریب میں انہوں نے ثقافتی اور تخلیقی شعبوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فلم اور میڈیا انڈسٹری کے فروغ سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ پاکستان کا مثبت اور نرم تشخص بھی عالمی سطح پر اجاگر ہوگا۔
THE PUBLIC POST