کراچی: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے انمول عرف پنکی کیس میں مبینہ سہولت کاروں کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
پولیس کے مطابق سہیل الرحمان اور ذیشان الرحمان انمول عرف پنکی کی مبینہ بلیک منی کو وائٹ کرنے میں ملوث رہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے اکاؤنٹس فریز ہونے کے بعد سمیر کی مدد سے مالی ٹرانزیکشنز کی جاتی تھیں۔
پولیس کے مطابق انہی اکاؤنٹس کے ذریعے منشیات کے خام مال کی ادائیگیاں بھی کی جاتی رہیں جبکہ سہیل اور ذیشان کے اکاؤنٹس سے جائیدادیں بھی خریدی گئیں۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمہ کے چھوٹے بھائی ناصر کا 2016 میں سمیر کے ساتھ تعلق رہا ہے۔
دوسری جانب وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ سمیر سے سہیل الرحمان اور ذیشان الرحمان کا کوئی تعلق نہیں اور ایف آئی آر کے مطابق ہی درخواستِ ضمانت دائر کی گئی ہے, وکیل صفائی کے مطابق پولیس کے الزامات بعد میں شامل کیے گئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ بھی درج کیا جائے گا اور تفتیش جاری ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
THE PUBLIC POST