امریکی نیوی نے خلیج فارس میں اپنے جدید اور انتہائی مہنگے جاسوس ڈرون کی تباہی کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ’حادثہ‘ قرار دیا ہے، تاہم مختلف ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون ایرانی فضائی دفاع نے مار گرایا۔
ایرانی نیوز ایجنسی ’پریس ٹی وی‘ کے مطابق امریکی نیوی کے مطابق MQ-4C ٹرائٹن نامی بغیر پائلٹ نگرانی کرنے والا طیارہ 9 اپریل کو خلیج فارس کے علاقے میں تباہ ہوا۔ حکام نے اس واقعے کو “میشپ” یعنی حادثہ قرار دیا ہے، تاہم اس کے اسباب کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ڈرون کے اچانک آن لائن فلائٹ ٹریکنگ سسٹمز سے غائب ہونے کے بعد متعدد ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اسے ایرانی فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا۔ اگرچہ اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، لیکن واقعے نے خطے میں کشیدگی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
ایم کیو-4 سی ٹرائٹن ایک انتہائی جدید اور قیمتی ڈرون ہے، جس کی مالیت تقریباً 23 کروڑ 50 لاکھ سے 25 کروڑ ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اس کی زیادہ قیمت کے باعث اب تک صرف 20 طیارے ہی سروس میں شامل کیے گئے ہیں۔
یہ ڈرون طویل فاصلے تک سمندری نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے اور 13 ہزار کلومیٹر سے زائد رینج کے ساتھ وسیع علاقے پر مسلسل نظر رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اس میں جدید ریڈار سسٹم، الیکٹرو آپٹیکل اور انفراریڈ سینسرز نصب ہوتے ہیں جو سمندر میں جہازوں اور دیگر اہداف کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ڈرون کے غائب ہونے سے قبل اس کی پرواز میں اچانک تبدیلی آئی اور وہ تقریباً 50 ہزار فٹ کی بلندی سے تیزی سے نیچے آتے ہوئے 10 ہزار فٹ سے کم سطح پر پہنچ گیا۔
اس دوران ڈرون نے ہنگامی سگنل بھی نشر کیے، جن میں پہلے کمیونیکیشن کی خرابی کا کوڈ اور بعد میں مکمل ایمرجنسی کا کوڈ شامل تھا۔
امریکی نیوی کے مطابق یہ ڈرون خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں نگرانی کا مشن مکمل کرنے کے بعد اٹلی کے نیول ایئر اسٹیشن سگونیلا میں اپنے اڈے کی جانب واپس جا رہا تھا۔
واضح رہے کہ 2019 میں بھی ایران نے اسی نوعیت کے ایک امریکی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کے ملبے کی تصاویر بھی جاری کی گئی تھیں۔ حالیہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں جدید ڈرونز کی سکیورٹی اور بقا پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
THE PUBLIC POST