قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 27-2026 کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کردیا۔
اسپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے آغاز پر پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے نعرے بازی کی جب کہ آزاد ارکان نے پلے کارڈز اٹھا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میں اس معزز ایوان کے سامنے ہماری حکومت کا تیسرا بجٹ برائے مالی سال 27-2026 پیش کر رہا ہوں۔
بجٹ کے اہم نکات
18 کھرب 77 ارب روپے سے زائد کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں سات فیصد اضافے کی تجویز
مجموعی ترقیاتی بجٹ کے لیے 3675 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
دفاعی بجٹ کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی کا اعلان
سینٹری پیڈز اور مانع حمل ادویات پر ٹیکس کے خاتمے کی تجویز
2000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز
ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں (کنٹینٹ کری ایکٹرز) اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی آمدنی پر ودہولڈنگ ٹیکس کی تجویز
کریڈٹ ڈیبٹ کارڈ کی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز
سپر ٹیکس میں کمی کا اعلان
20 کروڑ روپے سالانہ مال فروخت کرنے والے دکانداروں پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس کی تجویز
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ میں اتحادی جماعتوں کی قیادت خصوصاً میاں محمد نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین، عبدالعلیم خان اور جناب خالد حسین مگسی کی رہنمائی کے لیے دل کی گہرائیوں سے شکرگزار ہوں۔
یہ بجٹ ایک ایسے موقع پر پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان عالمی عوام اور ذرائع ابلاغ کی نظر میں ایک ایسے ملک کی حیثیت حاصل کر چکا ہے جس کی آواز سنی جاتی ہے اور جس کی دوستی کی خواہش کی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلی اتفاقاً نہیں آئی، اس کا آغاز گزشتہ برس مئی میں ہوا جب ہماری سرحدوں پر جارحیت کو پاکستان کی جانب سے ایسا جواب ملا کہ پوری دنیا کو نوٹس لینا پڑا۔ ہماری مسلح افواج نے دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ وہ چند ہی گھنٹوں میں جنگ بندی کی بات کرنے پر مجبور ہوا۔ یہ کامیابی دہائیوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور تیاری کا ثمر ہے۔ آپریشن ”سن آف الرّووس“ کی کامیابی ہماری قومی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔
آج دنیا پاکستانی دفاعی قوت کی معترف ہے، یہی وجہ ہے کہ ہماری فضاؤں کا تحفظ کرنے والے تھنڈر جیٹس کو کئی ممالک اپنی فضائیہ میں شامل کرنے کے لیے پاکستان سے رابطے میں ہیں۔ ہماری دفاعی صنعت یقینی زرمبادلہ کمانے کا بھی ایک ذریعہ بن چکی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مضبوط دفاع نے نہ صرف ہماری سلامتی کے لیے اہم ہے بلکہ یہ ملک کی معاشی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
سبسڈیز میں رد و بدل کی تجاویز
پاور سیکٹر کےلیے سبسڈی میں کمی کر کے 830 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے 252 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش
کے-الیکٹرک کے ٹیرف فرق کی مد میں سبسڈی 163 ارب روپے تک بڑھانے کی تجویز
آزاد کشمیر کے لیے ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی 81 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز
خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 34 ارب روپے سبسڈی مختص کرنے کی تجویز
بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے 3 ارب روپے سبسڈی دینے کی تجویز
پاکستان انرجی ریوالونگ فنڈ کے لیے 48 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
یوریا کھاد کی پیداوار و فراہمی کے لیے 5.8 ارب روپے سبسڈی کی سفارش
الیکٹرک وہیکل اسکیم کے لیے 8 ارب روپے کی سبسڈی برقرار رکھنے کی تجویز
یو ایس سی کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے 23.2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
پیٹرولیم شعبے کے لیے سبسڈی آئندہ مالی سال میں ختم کرنے کی تجویز
انٹر ڈسکوز ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کے لیے 248 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش
حقیقی ترقی کی شرح 4 فیصد افراط زر کی اوسط شرح 8 اعشاریہ 2 فیصد، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3 اعشاریہ 6 فیصد رہنے کا امکان
آئی پی پیز کو براہ راست ادائیگی ختم کرنے کی بھی تجویز
اسی دفاعی قوت نے نہ صرف برّے بلکہ ذہنی طور پر بھی ہماری اسٹریٹجک شراکت داری کے نقشے کو نئے سرے سے ترتیب دیا ہے۔ میں خصوصی طور پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان ایمان اور بھائی چارے کا رشتہ پہلے سے موجود تھا۔ تاہم اس باضابطہ دفاعی معاہدے کی وجہ
سے خادمین حرمین شریفین کے ساتھ ہمارے تعلقات اور برادرانہ رشتوں کو ایک نئی اور مستحکم بنیاد ملی ہے۔ یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے لیکن ساتھ ہی ہمارے لیے ایک بھاری اور مقدس ذمہ داری ہے جسے نبھانے کے لیے ہم پورے عزم اور یقین کے ساتھ سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ہمارے تعلقات میں یہ اہم تبدیلی ہماری قیادت کی رہین منت ہے جس کے لیے وزیر اعظم پاکستان، فیلڈ مارشل اور ہماری پوری سفارتی اور عسکری قیادت یقیناً شکر کے مستحق ہیں۔
پاک چین تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہیں۔ یہ دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔ چین پاکستان کا سب سے اہم تجارتی شراکت دار ہے۔
ریلیف اقدامات
وفاقی بجٹ 2026-27 میں ٹرانسپورٹ شعبے سے متعلق ٹیکس اور ڈیوٹی میں تبدیلیوں کی تجاویز شامل ہیں
بیرون ملک سفر کے لیے بزنس کلاس ٹکٹ پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
درآمدی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے
2 ہزار سے 3 ہزار سی سی تک کی ایس یو ویز کو بھی ٹیکس کے دائرے میں لانے پر غور کیا جا رہا ہے
3 ہزار سی سی سے زائد گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز شامل ہے
2 کروڑ روپے سے زائد قیمت والی برقی گاڑیوں پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کا امکان ہے
نئی آٹو پالیسی پر کام جاری ہے جس کا جائزہ وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی لے رہی ہے
برقی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور بسوں کے لیے موجود مراعات برقرار رکھنے کی تجویز ہے
درآمدی برقی ٹرکوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس رعایت دینے کی بھی تجویز شامل ہے
تمام تجاویز بجٹ کا حصہ ہیں اور حتمی منظوری کے بعد ان پر عملدرآمد ہوگا
میں عالمی معیشت کے چیلنجز پر بات کرنا چاہوں گا۔ اس چیلنج کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں عالمی منڈیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ روس یوکرین جنگ کی بنا پر یہ اور دیگر معاشی دباؤ آئے۔ آج یہ مسئلہ اتنا سنگین ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں معیاری عالمی منڈی کی اپنی دہائی کی اونچائی سے کہیں زیادہ ہیں۔
حقیقی ترقی کی شرح 4 فیصد، افراط زر کی اوسط شرح 8 اعشاریہ 2 فیصد، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3 اعشاریہ 6 فیصد رہنے کا امکان
اگر حکومت اس چیلنج کے پورے بوجھ کو عام آدمی پر منتقل کر دیتی تو یہ قیمتیں اس سے کہیں زیادہ ہوتیں۔ اسی لیے وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر حکومت نے ایک سو اٹھائیس (128) ارب روپے کی معاشی ڈھال کے ذریعے عام آدمی کو ریلیف دیا۔ جسے بعد میں ٹارگٹڈ سبسڈیز کے ذریعے مزید بہتر کیا گیا۔ جس کے ذریعے ضرورت مند افراد کو پٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف دیا جائے گا اور آگے بھی دیا جاتا رہے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی سال 27-2026 کے لیے حقیقی ترقی کی شرح چار (4) فیصد رہنے کا امکان ہے۔ افراط زر کی اوسط شرح آٹھ اعشاریہ دو (8.2) فیصد متوقع ہے، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا تین اعشاریہ چھ (3.6) فیصد رہے گا۔
2027-28 اور 29-2028 کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مشاورت سے اسی نوعیت کی بنیادوں پر اس کی تجدید کی جائے گی، وفاقی ٹیکس ریونیو کا تخمینہ پانچ ہزار تین سو چھتیس (5,336) ارب روپے ہو گا، وفاقی حکومت کی خالص آمدنی گیارہ ہزار سات سو اکیاون (11,751) ارب روپے ہوگی۔
وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ اٹھارہ ہزار سات سو اکتر (18,771) ارب روپے ہے، جس میں سے آٹھ ہزار چون (8,054) ارب روپے مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص ہوں گے، وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے ایک ہزار (1,000) ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کے جاری اخراجات کا تخمینہ سترہ ہزار چار سو پچانوے (17,495) ارب روپے ہے، قومی دفاع حکومت کی اہم ترین ترجیح ہے۔ اس قومی مفاد کے لیے تین ہزار (3,000) ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔
سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے ایک ہزار اکتر (1,071) ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ پنشن کے اخراجات کے لیے ایک ہزار ایک سو انہتر (1,169) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ گرانٹس اور دیگر سکیموں کے لیے ایک ہزار ایکانوے (1,091) ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔
آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے مختلف ریلیف اقدامات کا اعلان
وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت سرکاری اور نجی تنخواہ دار طبقے کی مشکلات سے آگاہ ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر آج مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ تنخواہ دار افراد کو ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں حکومت نے آمدنی کی چار سلیبس کے تحت تنخواہ دار افراد کو ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں جو تنخواہ دار پچیس (25) سے تیس (30) لاکھ روپے کے درمیان سالانہ کماتے ہیں، ان کے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ تیس (30) سے بتیس (32) لاکھ روپے کے درمیان آمدن والے تنخواہ داروں کے لیے ٹیکس کی شرح 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
بتیس (32) سے اکتالیس (41) لاکھ روپے آمدن والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
اکتالیس (41) سے چھپن (56) لاکھ روپے آمدن والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کرنے کی تجویز ہے، چھپن (56) سے ستر (70) لاکھ روپے تک آمدن والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
شرح میں کمی کے علاوہ ہم نے ایک اور بڑا ریلیف دیتے ہوئے تنخواہ دار طبقے پر عائد ایک اضافی چارج کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا فیصلہ تھا اور حکومت کو بھی اس بارے میں تحفظات تھے۔
اسی لیے ہم نے پچھلے بجٹ میں اس اضافی چارج کی شرح کو دس فیصد سے کم کر کے پانچ فیصد کیا تھا اور اب اس اضافی چارج کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ان اقدامات سے وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کا اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔
THE PUBLIC POST