ماہرین نے ’مِنی اسٹروک‘ کی عام علامات اور خطرات بتادیے

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مِنی اسٹروک، جسے ٹرانزینٹ اسکیمک اٹیک (ٹی آئی اے) کہا جاتا ہے، کو ہرگز معمولی نہ سمجھا جائے کیونکہ یہ مکمل فالج کی ابتدائی وارننگ ثابت ہو سکتا ہے۔

عام علامات میں چہرے کا ایک طرف جھک جانا، بازو میں کمزوری یا مفلوجی، اور گفتگو میں دقت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نظر میں تبدیلی، چکر آنا، متلی، توازن کا بگڑنا، نگلنے میں دشواری اور ذہنی الجھن جیسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں، جو اکثر مختصر وقت میں ختم ہو جاتی ہیں۔

برطانیہ کے ایک ڈاکٹر، ڈاکٹر فرنچ، کے مطابق مِنی اسٹروک کو “دماغ کا ہارٹ اٹیک” سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر علامات 24 گھنٹوں کے اندر ختم ہو جائیں تو اسے ٹی آئی اے کہا جاتا ہے، جبکہ مکمل فالج کی علامات زیادہ دیر تک برقرار رہتی ہیں۔

ماہرین نے “BE FAST” فارمولہ یاد رکھنے کی ہدایت دی ہے: توازن (Balance)، بینائی (Eyes)، چہرہ (Face)، بازو (Arms)، گفتگو (Speech) اور فوری کارروائی (Time)۔

ڈاکٹر فرنچ کا کہنا ہے کہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں، تاہم نوجوان بھی متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر ان کے دل میں پیدائشی سوراخ موجود ہو۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بڑی عمر کے افراد میں ایٹریل فیبریلیشن، یعنی دل کی بےقاعدہ دھڑکن، ایک اہم سبب ہے جو خون کے لوتھڑے بنا کر دماغ تک پہنچا سکتی ہے۔

برطانوی ادارہ صحت (این ایچ ایس) کے مطابق، اگر کسی شخص میں ٹی آئی اے کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کرنا نہایت ضروری ہے۔

Check Also

معروف ہارٹ سرجن ڈاکٹر حسنات کو جناح کارڈیک انسٹیٹیوٹ لاہور کاسربراہ لگایا جارہا ہے: ذرائع

معروف ماہر امراضِ قلب ڈاکٹر حسنات کو جناح کارڈیک انسٹیٹیوٹ کی سربراہی سونپنے کی تیاریاں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *